resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: غصے کی حالت میں تین طلاقیں دینے کے بعد پھر سے نکاح کرنے کا حکم

(39784-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، براہِ کرم درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں، ہم چاہتے ہیں کہ معاملہ مکمل طور پر شریعت کے مطابق واضح ہو جائے۔ مسئلہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
شوہر اور بیوی کا نکاح صحیح طریقے سے ہوا تھا، شوہر فقہِ حنفی پر عمل کرتے ہیں، فروری کے مہینے میں شوہر نے شدید غصے کی حالت میں ایک ہی مجلس میں طلاق کے الفاظ تین مرتبہ کہے۔ براہِ کرم یہ بھی واضح فرمائیں کہ آیا یہ الفاظ تین الگ طلاقیں تھیں یا ایک ہی بات کا اعادہ (repetition) تھا، کیونکہ اس بارے میں اب شوہر کو خود بھی وضاحت نہیں ہے۔
اس کے بعد عدت کے اندر اندر (مارچ کے آخر میں) باہمی رضامندی سے صلح ہو گئی اور اپریل سے میاں بیوی کا تعلق دوبارہ قائم ہو گیا، اس وقت ایک اہلِ حدیث عالم سے رجوع کیا گیا تھا جنہوں نے نکاح کو برقرار قرار دیا تھا، کوئی نیا نکاح نہیں ہوا۔
جولائی میں شوہر نے دوبارہ طلاق کا ذکر کیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد نئی طلاق دینا نہیں تھا بلکہ صرف یہ بات سمجھانا تھی کہ فروری میں ہی رشتہ ختم ہو چکا تھا، بعد میں شوہر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس وقت ہوش و حواس میں تھے، مگر نیت نئی طلاق دینے کی نہیں تھی، جولائی کے بعد میاں بیوی کی ملاقات نہیں ہوئی، صرف فون پر رابطہ رہا۔
ہم مفتی صاحب سے درج ذیل امور میں واضح اور حتمی شرعی رہنمائی چاہتے ہیں:
کیا فروری میں کہی گئی طلاقیں فقہِ حنفی کے مطابق تین طلاقِ بائن شمار ہوتی ہیں یا ایک؟
کیا جولائی میں کہی گئی بات شرعاً نئی طلاق شمار ہوتی ہے یا محض سابقہ طلاق کا بیان؟
موجودہ صورتِ حال میں نکاح شرعاً برقرار ہے یا ختم ہو چکا ہے؟
اگر نکاح ختم ہو چکا ہے تو کیا رجوع یا نیا نکاح کسی صورت ممکن ہے؟
ہم کسی آسانی کی تلاش میں نہیں ہیں بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو فیصلہ شریعت کے مطابق ہو وہی ہمیں بتا دیا جائے تاکہ گناہ اور شک کی حالت سے نکل سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ طلاق چاہے غصہ کی حالت میں دی جائے یا عام حالت میں بہر صورت طلاق واقع ہو جاتی ہے، نیز شریعت مطہّره میں ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں، یہی حکم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، اسی پر جمہور صحابہ و تابعین (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا اجماع ہے اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالی کا بھی یہی مسلک ہے، اس کے بعد بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو جاتی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، البتہ اگر وہ عورت کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت بھی قائم کرے، پھر وہ دوسرا شوہر اس عورت کو کسی وجہ سے طلاق دیدے یا اُس کا انتقال ہوجائے تو ایسی صورت میں عورت عدت گزارنے کے بعد اپنے سابقہ شوہر سے آپس کی رضامندی سے نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق آپ نے اپنی اہلیہ کو فروری کے مہینے میں جو تین طلاقیں دی ہیں، اسی وقت سے آپ دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے، اس کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنا اور ازدواجی تعلقات قائم کرنا بالکل ناجائز اور حرام تھا، لہٰذا آپ دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدہ ہوجائیں اور اتنے عرصے ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ سے خوب توبہ و استغفار کریں، جولائی میں دی گئی طلاق محل (نکاح) باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو اور بے فائدہ شمار ہوگی۔
تین طلاقیں دینے کے بعد چونکہ نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، لہٰذا اب نکاح کرنے کی ایک یہی صورت ہیکہ آپ کی اہلیہ کسی اور مرد سے شادی کریں اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت بھی قائم کریں، پھر وہ دوسرا شوہر کسی وجہ سے طلاق دیدے یا اُس کا انتقال ہوجائے تو عدت مکمل ہوجانے کے بعد آپ دونوں آپس کی رضامندی سے نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الآیۃ: 230)
فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہ"o

التفسير المنير - الزحيلي: (2/ 346،ط:دار الفكر)
‌‌نكاح المبتوتة: وهي المطلقة طلاقا ثلاثا. لها أن تتزوج بزوج آخر بعد انتهاء العدة من الزوج الأول، وتحل للزوج الأول إن كان الزواج الثاني قائما على الرغبة والدوام والبقاء لا السفاح، وحدث طلاق من غير تواطؤ، وانقضت العدة بعد هذا الطلاق.

شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)
وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث وقال طاوس وبعض أهل الظاهر لا يقع بذلك إلا واحدة وهو رواية عن الحجاج بن أرطأة ومحمد بن إسحاق والمشهور عن الحجاج بن أرطأة أنه لا يقع به شيء وهو قول بن مقاتل ورواية عن محمد بن إسحاق۔

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (255/10،ط: مطابع دار الصفوة)
ذهب الفقهاء إلى أن من طلق زوجته طلقة رجعية أو طلقتين رجعيتين جاز له إرجاعها في العدة....أما إذا طلق زوجته ثلاثا، فإن الحكم الأصلي للطلقات الثلاث هو زوال ملك الاستمتاع وزوال حل المحلية أيضا، حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر، لقوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}۔

حاشیة ابن عابدین: (3/ 244،ط: سعید)
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه، الثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اه ملخصاً من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافاً لابن القيم اه وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی


Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce