عنوان: شراکت داری (partnership) میں نفع و نقصان کا شرعی اصول (16952-No)

سوال: اے ٹریول اینڈ ڈبلیو ٹریول دونوں ٹریول ایجنٹس ہیں، ایڈوانس ایئر لائن ٹکٹ خریدنے میں صرف A Travel کی طرف سے سرمایہ کاری ہوئی ہے، جبکہ اے ٹریول اور ڈبلیو ٹریول دونوں ہی ایئر لائن ٹکٹ فروخت کرنے کی سرگرمی سے کوشش کرتے ہیں۔ اے ٹریول %40 فیصد اور ڈبلیو ٹریول %60 فیصد نفع لیتا ہے۔ یہ ہمارے علم میں تھا کہ نقصان کا تناسب %50 فیصد ہے، قطع نظر اس کے کہ منافع کا تناسب کیا ہے؟ اس لیے ہم دونوں فریقین کے لیے %50 نقصان کے تناسب پر متفق ہوئے۔ کچھ دن پہلے مفتی طارق مسعود کا کلپ سن کر ہمارے علم میں آیا کہ نقصان صرف سرمایہ کار کو برداشت کرنا چاہیے، نہ کہ کسی اور فریق کو لیکن سرمایہ کار sleeping partner ہونا چاہیے۔ براہ کرم رہنمائی کریں کہ نقصان کو کس طرح بانٹنا چاہیے؟

جواب: کاروباری شراکت داری (partnership) کا شرعی اصول یہ ہے کہ تمام شرکاء کاروبار کے نفع و نقصان دونوں میں شریک ہوں گے۔ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا، یعنی جس نے جتنا فیصد سرمایہ لگایا ہے، اسے اتنے ہی تناسب سے نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ جہاں تک نفع کی تقسیم کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں شریعت کی طرف سے کوئی مخصوص تناسب لازم نہیں کیا گیا، بلکہ فریقین اپنے سرمایہ٬ ذمہ داریوں اور کاروبار کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے باہمی رضامندی سے نفع کا کوئی بھی فیصدی تناسب طے کرسکتے ہیں، البتہ جس شریک کا کاروبار میں صرف سرمایہ لگا ہو، اور وہ کاروبار کیلئے کوئی کام نہیں کر رہا ہو تو اس (Non working partner) کے لیے اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ نفع طے کرنا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مصنف عبد الرزاق: (رقم الحديث: 15087)
عبد الرَّزَّاق قال: قال القيس بن الرّبيع، عن أبي الحُصَيْن، عن الشَّعْبِيِّ، عن عليّ في المضاربة: « الْوَضِيعَةُ عَلَى الْمَالِ، وَالرِّبْحُ عَلَى مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ» وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمُضَارَبَةِ، أَوِ الشِّرْكَيْنِ

رد المحتار: (312/4، ط: دار الفکر)
وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح، فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز: ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط

الفتاوی الهندية:(كتاب الشركة، فصل فى بيان شرائط انواع الشركة، 56/6، ط:دارالكتب العلمية)
(ومنها): أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالافتاء الإخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 87 May 16, 2024
sharakat dari partnership mein nafa wa nuqsan ka sharai usool

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.