عنوان: مرحوم کے گریجویٹی فنڈ کا حقدار کون ہوگا؟(1707-No)

سوال: گریچویٹی فنڈ جو حکومت کی طرف سے ملازمین کو ملتا ہے، وہ میراث میں شامل ہوگا یا نہیں؟

جواب: گریجویٹی فنڈز کے ضوابط مختلف اداروں میں مختلف ہوتے ہیں، اصل مدار یہ ہے کہ اگر ملازم گریجویٹی فنڈز کا حقدار اپنی زندگی میں ہوگیا تھا تو وہ تنخواہ  کا حصہ ہوکر ترکے میں شامل ہوگا اور اگر یہ فنڈز ملازمت کی شرائط  کا حصہ نہیں تھے اور نہ ملازم زندگی میں اس کا حقدار تھا، تو اس کا حکم یہ ہے کہ
گریجویٹی فنڈز  سے متعلق ادارہ  کا جو ضابطہ اور قانون ہو، اس کی رو سے  ادارہ تمام  فنڈز، مرحوم کے پسماندگان میں سے  جس کو متعین کرکے دے گا، وہ ان تمام فنڈز کا مالک ہوجائے گا، اس کے علاوہ دوسرے کسی وارث کو اس سے حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ مذکورہ قانون  کے مطابق یہ فنڈز مرحوم ملازم کے ترکہ میں شامل نہیں ہے، بلکہ مرحوم  ملازم کے پسماندگان کے لیے ادارہ  کی طرف سے ایک عطیہ ہے اور عطیہ کا حکم یہ ہے کہ  جس کو متعین طور پر دیا جاتا ہے، وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: (206/11، ط: دار السلاسل)
التركة لغة: اسم مأخوذ من ترك الشيء يتركه تركا. يقال: تركت الشيء تركا: خلفته، وتركة الميت: ما يتركه من الميراث، والجمع تركات .
وفي الاصطلاح۔۔التركة: هي ما يتركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعينه.

بدائع الصنائع: (127/6، ط: دار الکتب العلمیة)
أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض لأن الهبة تمليك العين من غير عوض فكان حكمها ملك الموهوب من غير عوض.

الھندیۃ: (کتاب الھبة، 374/4، ط: دار الفکر)
أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز.

الدر المختار: (690/5، ط: دار الفکر)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1307
marhoom kay gratuity fund ka haqdaar kon hoga?, Who will be entitled to the late's / deceased graduity fund?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.