سوال:
مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میرے نانا کو فوت ہوئے تقریباً 22 سال ہوگئے اور آج تک ان کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی، میرے نانا صاحب نے کچھ مکان اور کچھ فلیٹس وراثت میں چھوڑ ے تھے، جن کا آج تک 22 سال سے کراچی میں کرایہ آ تا ہے جو کہ میرے ماموں لوگ لے کر خود ہی خرچ کر دیتے ہیں، آج تک 22 سال سے انہوں نے کرایہ بھی بہنوں کو نہیں دیا اور نہ ہی وراثت تقسیم کی۔ سوال یہ ہے کہ آیا کرائے (جو ماموں لوگ لے رہے ہیں جو کہ مہینے کا تقریباً 40 سے 50 ہزار روپے تک ہے پر بہنوں کا حق ہے یا نہیں؟جزاک اللہ خیرا
جواب: والد کے انتقال کے بعد ان کی متروکہ جائیداد میں ان کے تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے اس جائیداد میں شریک ہوتے ہیں اور اس جائیداد کے کرائے میں تمام ورثاء کا حق ہوتا ہے، لہذا والد کے متروکہ مکان سے حاصل ہونے والے کرائے میں بیٹیوں کا بھی ان کے شرعی حصہ کے موافق حق ہے۔
بھائیوں پر لازم ہے کہ متروکہ جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والے کرائے میں بہنوں کے حق کے بقدر ان کا حق و حصہ اس دنیا میں دے دیں، ورنہ آخرت میں دینا پڑے گا اور آخرت میں دینا آسان نہیں ہوگا، حدیثِ مبارک میں اس پر بڑی وعیدیں آئی ہیں: حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس نے زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم کرتے ہوئے حاصل کی قیامت کے دن اسے سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔“ (صحیح مسلم، حدیث نمبر:1610)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح مسلم: (كتاب المساقاة، باب تحريم الظلم وغصب الارض وغيرها، رقم الحدیث:1610، ط: داراحیاء التراث العربی)
عن سعيد بن زيد ، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: " من اخذ شبرا من الارض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع ارضين ".
شرح المجلة للأتاسي: (المادۃ: 1073، 14/4، ط: رشیدیة)
الأموال المشترکة شرکة الملک تقسم حاصلاتها بین أصحابها علی قدر حصصهم.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی