resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: زندگی میں اپنی جائیداد بیوی اور ایک بیٹی کو نہ دینا

(37726-No)

سوال: میرا ایک مکان ہے جو میرے مرحوم والد نے شروع سے ہی میرے نام پر خریدا تھا، میری تین بیٹیاں اور چار بیٹے تھے، جس میں سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کا انتقال ہوگیا ہے،میں اپنی بیوی اور ایک بیٹی کو اس مکان میں سے کچھ نہیں دینا چاہتا، بقایا وارثوں میں اس مکان کی تقسیم کیسے کروں؟ میں نہیں چاہتا کہ میرے بعد کسی قسم کا کوئی جھگڑا ہو، میرے دوسرے بھائیوں کو میرے والد نے اپنے اپنے حصے کی جگہیں دے دی تھی۔

جواب: اگر مرحوم والد نے مالکانہ حقوق اور قبضہ کے ساتھ آپ کو یہ مکان ہبہ کیا تھا تو اس مکان میں آپ کی ملکیت ثابت ہوگئی ہے، اس صورت میں آپ کے والد کے کسی وارث کا اس میں حصہ نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال وجائیداد کا بذات خود مالک ہے، اور مرنے سے پہلے ورثاء کا اس کے مال وجائیداد میں کوئی حصہ مقرّر نہیں ہے، زندگی میں ورثاء کو جو کچھ دیا جاتا ہے، وہ ہبہ (گفٹ) ہوتا ہے، اور ورثاء میں سے صرف اولاد کے درمیان ہبہ میں شرعاً برابری پسندیدہ ہے، اولاد کے علاوہ دیگر ورثاء کے درمیان برابری کرنا ضروری نہیں ہے۔
زندگی میں بعض اولاد کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کے لیے کسی اولاد کو زیادہ دینا یا بعض اولاد کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا یا کسی معقول وجہ کے بغیر کم دینا جائز نہیں ہے، حدیث مبارکہ میں اس کی ممانعت آئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مشکوٰۃ المصابیح: (باب العطایا، 261/1، ط: قدیمی)
'' وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاماً، فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية ...... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»''۔

مرقاة المفاتيح: (2008/5، ط: دار الفكر)
(فَقَالَ: آكُلَّ وَلَدِكَ) : بِنَصْبِ كُلَّ (نَحَلْتَ مِثْلَهُ) أَيْ: مِثْلَ هَذَا الْوَلَدِ دَلَّ عَلَى اسْتِحْبَابِ التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ فِي الْعَطِيَّةِ........بَيْنَ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ فِي الْعَطِيَّةِ.........قَالَ النَّوَوِيُّ: " فِيهِ اسْتِحْبَابُ التَّسْوِيَةِ بَيْنَ الْأَوْلَادِ فِي الْهِبَةِ فَلَا يُفَضِّلُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ سَوَاءٌ كَانُوا ذُكُورًا أَوْ إِنَاثًا، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، وَالصَّحِيحُ الْأَوَّلُ لِظَاهِرِ الْحَدِيثِ فَلَوْ وَهَبَ بَعْضَهُمْ دُونَ بَعْضٍ فَمَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ، وَمَالِكٍ، وَأَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى - أَنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَيْسَ بِحَرَامٍ وَالْهِبَةُ صَحِيحَةٌ، وَقَالَ أَحْمَدُ وَالثَّوْرِيُّ وَإِسْحَاقُ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - وَغَيْرُهُمْ: هُوَ حَرَامٌ، وَاحْتَجُّوا بِقَوْلِهِ: «لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ».

تكملة فتح الملهم: (71/5، ط: دار العلوم کراتشی)
"فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه: ان الوالد ان وهب لاحد ابنائه هبة اكثر من غيره اتفاقا، او بسبب علمه، او عمله، او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذالك اضرار الاخرين ولا الجور عليهم، كان جائزا علي قول الجمهور،.........أما إذا قصد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غير داعية مجوزة لذالك، فانه لا يبيحه احد...

الدر المختار: (696/5، ط: دار لفکر)
وفي الخانية لابأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالإبن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم..

البحر الرائق: (288/7، ط: دار الکتاب الاسلامی)
يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم.

الهندية: (374/4، ط: دار الفکر)
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب..

رد المحتار: (690/5، ط: دار الفکر)
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".

الھندیة: (378/4، ط: رشیدیة)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".

کذا فی فتاوی بنوری تاؤن: (رقم الفتوی: 143908200269)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster