سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ میرے دادا جان نے اپنی زندگی میں اپنی زمین اپنے چار بیٹوں میں تقسیم کر دی تھی اور قبضہ بھی دے دیا تھا، جس وقت تقسیم ہوئی تھی تو دو بیٹوں کو تین تین مرلے اور دو بیٹوں کو دس دس مرلے دیے گے، اس وقت بھی میرے والد صاحب نے اعتراض کیا تھا کہ یہ زیادتی ہے، مگر کسی نے نہیں مانا، بعد میں دادا جان انتقال کر گئے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ میرے والد صاحب کو تین مرلے زمین ملی اور میرے چچا کو دس مرلے زمین ملی تو کیا یہ تقسیم شرعی حیثیت سے درست ہے یا اس کو پھر تقسیم کیا جائے؟ برائے کرم مجھے اس پہ فتویٰ جاری کیا جائے۔
جواب: واضح رہے کہ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک و مختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرّف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف کرنے سے منع کرے، نیز والد کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں حق و حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کو مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے، تاہم اگر والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد خوشی و رضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور اپنی زندگی میں جو جائیداد تقسیم کی جائے، وہ ہبہ (Gift) کہلاتی ہے اور اولاد کے درمیان ہبہ (Gift) کرنے میں برابری ضروری ہوتی ہے، البتہ کسی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، یعنی کسی کی شرافت و دِین داری یا غریب ہونے یا زیادہ خدمت گزار ہونے کی بنا پر اس کو دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دے تو اس کی اجازت ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے دادا نے د نے بلا کسی وجہ کے اپنے بیٹوں کو کمی بیشی کے ساتھ دیا ہے تو ان کا یہ عمل غیر منصفانہ تھا، لیکن اس کے باوجود اگر آپ کے دادا نے چاروں بیٹوں کو جائیداد نام کرنے کے ساتھ ساتھ قبضہ اور ملکیت بھی دیدی تھی تو شرعاً یہ ہبہ (گفٹ) مکمل ہوگیا اور چاروں بیٹے اپنے اپنے حصہ کے مالک بن گئے۔
تاہم ایسی صورت میں جن بیٹوں کو زیادہ دیا تھا، اگر یہ بیٹے مرحوم والد کو اس گناہ سے بچانے کے لیے مناسب سمجھیں تو وہ اپنے دوسرے بھائیوں کو مزید دیکر حصہ برابر سرابر کرلیں، تاکہ والد کو آخرت میں پریشانی نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (كتاب الوقف، 444/4، ط: سعيد)
"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرًا أحدًا لآثرت النساء على الرجال»، رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم»، فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية : و لو وهب شيئًا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره، و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم، وعليه الفتوى، و قال محمد : ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيًا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف :وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل".
مجلة الأحكام العدلية: (230/1)
"كل يتصرف في ملكه كيف ما شاء".
الھندیة: (الباب الثانی فیما یجوز من الھبۃ و ما لا یجوز، 378/4، ط: رشیدیة)
"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".
تكملة فتح الملهم: (71/5، ط: دار العلوم کراتشی)
"فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه: ان الوالد ان وهب لاحد ابنائه هبة اكثر من غيره اتفاقا، او بسبب علمه، او عمله، او بره بالوالدين من غير ان يقصد بذالك اضرار الاخرين ولا الجور عليهم، كان جائزا علي قول الجمهور،....أما إذا قصد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غير داعية مجوزة لذالك، فانه لا يبيحه احد...
عمدة القاري: (کتاب الھبة، 146/13، ط: دار إحياء التراث العربي)
يجوز التَّفَاضُل إِن كَانَ لَهُ سَبَب، كاحتياح الْوَلَد لزمانته أَو دينه أَو نَحْو ذَلِك. وَقَالَ أَبُو يُوسُف: تجب التَّسْوِيَة إِن قصد بالتفضيل الْإِضْرَار ، وَذهب الْجُمْهُور إِلَى أَن التَّسْوِيَة مُسْتَحبَّة، فَإِن فضل بَعْضًا صَحَّ وَكره، وحملوا الْأَمر على النّدب وَالنَّهْي على التَّنْزِيه.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی