resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مرنے کے بعد کاروبار بیٹے کو دینے کی وصیت

(39873-No)

سوال: میں لاہور میں ایک رجسٹرڈ کمپنی میں اپنے والد کے ساتھ 50٪ شراکت دار ہوں۔ شراکت داری کے معاہدے میں میرے والد نے یہ بھی درج کیا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد کمپنی میں ان کا پورا حصہ مجھے منتقل کر دیا جائے گا اور یہ بات رجسٹرار آفس میں بھی رجسٹرڈ ہے۔
میرا ایک بھائی، دو بہنیں اور ایک سوتیلی والدہ ہیں۔ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں اپنے والد کے حصے کا واحد مالک بن جاؤں گا یا مجھے اپنے والد کا حصہ اپنے خاندان کے دیگر افراد میں تقسیم کرنا ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ بقیہ آدھا کاروبار آپ کے والد نے باقاعدہ قبضہ اور تصرف کے ساتھ آپ کی ملکیت میں نہیں دیا ہے، بلکہ اپنے انتقال کے بعد منتقل ہونے کی وصیت کی ہے اور وصیت ورثاء کے حق میں باطل ہے، لہذا والد کے انتقال کے بعد والد کا پچاس فیصد کاروباری حصہ ان کے شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذی: (باب ما جاء لا وصية لوارث، رقم الحدیث: 2121، ط: دارالغرب الاسلامي)
عن عمرو بن خارجة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب على ناقته، وانا تحت جرانها، وهي تقصع بجرتها، وإن لعابها يسيل بين كتفي فسمعته يقول: " إن الله اعطى كل ذي حق حقه، ولا وصية لوارث

مشکاۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 3074)
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: "لا وصیة لوارث إلا أن یشاء الورثة".

عمدۃ القاری: (باب لا وصیة للوارث، 55/14، ط: دار الکتب العلمیة)
وقال المنذري: "إنما یبطل الوصیة للوارث في قول أکثر أہل العلم من أجل حقوق سائر الورثة، فإذا أجازوہا جازت، کما إذا أجازوا الزیادۃ علی الثلث".

الدر المختار: (کتاب الوصایا، 647/6، 648، ط: دار الفکر)
يعم الوصية والإيصاء۔۔۔ (هي تمليك مضاف إلى ما بعد الموت) عينا كان أو دينا. قلت: يعني بطريق التبرع ليخرج نحو الإقرار بالدين فإنه نافذ من كل المال كما سيجيء ولا ينافيه وجوبها لحقه تعالى فتأمله۔"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster