resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تقسیم میراث سے پہلے اپنا حصہ معاف کرنے کا شرعی حکم

(39767-No)

سوال: میری والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، ان کے ورثاء میں:بیٹا، بیٹی،والد اور والدہ ہیں، وراثت میں سونا، جائیداد اور دیگر چیزیں موجود ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ کے والدین اپنا شرعی حصہ لینے سے انکار کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ"ہمیں کچھ نہیں چاہیے، سب تمہارا حق ہے۔" میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی وارث اپنا حصہ معاف کرے تو شرعی طور پر اس کے بدلے وراثت میں سے کوئی معمولی چیز دینا ضروری ہوتا ہے، لیکن میری والدہ کے والدین کسی بھی چیز کو لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، حتیٰ کہ معمولی چیز بھی قبول نہیں کرتے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب میری والدہ کے والدین کسی بھی چیز کو لینے کے لیے تیار نہ ہوں تو ان کا حصہ شرعی طور پر کیسے معاف ہو سکتا ہے؟ کیا اس صورت میں صرف زبانی طور پر حصہ معاف کرنا شرعاً کافی ہوگا،یا کوئی اور شرعی طریقہ ضروری ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں وراثت ایک ایسا لازمی حق ہے جو معاف کرنے سے ساقط نہیں ہوتا، اس لیے تقسیمِ میراث سے پہلے کسی وارث کا اپنے حصے سے بلا عوض دستبردار ہونا یا اسے معاف کرنا شرعاً معتبر نہیں ہے۔ چنانچہ سوال میں پوچھی گئی صورت میں والدین کا صرف زبانی طور پر یہ کہنا کہ "ہمہیں کچھ نہیں چاہیے، سب تمھارا حق ہے" شرعاً ان کے حقِّ وراثت کو ساقط نہیں کرے گا۔
البتہ اگر ترکہ کی باقاعدہ شرعی تقسیم ہوجائے اور والدین اپنے اپنے حصے پر قبضہ کرلیں، اس کے بعد وہ اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنا حصہ کسی دوسرے وارث یا کسی اور شخص کو دینا چاہیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز اور معتبر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تكملة رد المحتار:(505/7، ط: سعید)
الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط.

الأشباه و النظائر:(ما یقبل الاسقاط من الحقوق،272/1،ط: دار الكتب العلمية)
ﻟﻮ ﻗﺎﻝ اﻟﻮاﺭﺙ: ﺗﺮﻛﺖ ﺣﻘﻲ ﻟﻢ ﻳﺒﻄﻞ ﺣﻘﻪ؛ ﺇﺫ اﻟﻤﻠﻚ ﻻ ﻳﺒﻄﻞ ﺑﺎﻟﺘﺮﻙ

واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster