عنوان: غیبت نہ کرنے اور ہوجانے پر اپنی آمدنی کے دس فیصد کا صدقہ کرنے کا عہد کرنے کا حکم(1745-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب !
ایک انسان نے یہ کہا كہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں كہ آئندہ کبھی غیبت نہیں کروں گا اور کبھی یہ غلطی ہو گئی، تو اپنی آمدنی کا 10 % صدقہ کروں گا، جب جب یہ غلطی ہوگی تو 10 % صدقہ کروں گا، اب اِس شخص سے بار بار یہ غلطی ہو رہی ہے، اور اِس کی اتنی آمدنی نہیں ہے، وہ چاہتا ہے كہ عہد کسی طرح ختم ہوجائے، تاکہ صدقے کی پابندی سے نکل سکے، کیا اِس كے لیے کوئی راستہ ہے ؟

جواب: واضح رہے کہ غیبت کرنا کبیرہ گناہ ہے، جس سے ہر شخص کو اجتناب کرنا چاہیے ۔
رہی یہ بات کہ غیبت کرنے پر اپنی آمدنی میں سے دس فیصد صدقہ کرنے کا عہد کرنا، اس کے حکم کی تفصیل حسب ذیل ہے :
١- اگر عہد کرنے والے شخص کے ان الفاظ " میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ غیبت نہیں کروں گا، اگر کی تو اپنی آمدنی کا دس فیصد صدقہ کروں گا " سے اس کی نیت قسم کھانے کی نہیں تھی، تو اس پر آئندہ غیبت کا گناہ ہونے کی صورت میں کوئی صدقہ واجب نہیں ہوگا، بلکہ اگر غیبت ہو جائے تو صدق دل سے توبہ کرنا ضروری ہوگا۔
٢- اور اگر ان الفاظ سے قسم یا نذر کی نیت تھی، تو ایسی صورت میں جب بھی مذکورہ شخص غیبت کرے گا تو اپنی آمدنی کا دسواں حصہ صدقہ کرے گا یا قسم کا کفارہ ادا کرے گا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح شام پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، یا ہر ایک مسکین کو دوکلو گندم یا اس کا خالص آٹا یا اس کی قیمت دے، یا دس مساکین کو ایک ایک جوڑا کپڑا دے اور اگر مذکورہ شخص اپنی تنگدستی کی وجہ سے ان چیزوں کی استطاعت نہیں رکھتا تو مسلسل تین دن تک روزہ رکھنے سے کفارہ ادا ہو جاتا ہے۔
اگر متعدد بار غیبت کی اور اس کے نتیجہ میں کئی کفارے جمع ہو گئے، تب بھی ہر قسم کا الگ الگ کفارہ ادا کرنا لازم ہے، جتنے ادا کرسکتے ہیں، ادا کرتے رہیں، جب بالکل عاجز آجائیں، تو آخری کفارے میں کفاروں میں تداخل کی نیت کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں، تو اللہ تعالیٰ سے معافی کی امید ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

شعب الایمان: (92/9، ط: مکتبۃ الرشد)
عن ميمونة مولاة النبي صلى الله عليه وسلم: قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا ميمونة، تعوذي بالله من عذاب القبر "، قلت: يا رسول الله، وإنه لحق؟ قال: " نعم يا ميمونة، وإن من أشد عذاب القبر يا ميمونة الغيبة والبول "

المبسوط للسرخسی: (کتاب الأیمان، 196/3)
اذا حلف الرجل علی یمین فحنث فیہا فعلیہ الکفارۃ۔

الدر المختار: (735/3، ط: دار الفکر)
(ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف)

الھندیۃ: (61/2، ط: دار الفکر)
وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي۔۔۔فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات۔۔۔۔۔وإن اختار الطعام فهو على نوعين: طعام تمليك وطعام إباحة.
طعام التمليك أن يعطي عشرة مساكين كل مسكين نصف صاع من حنطة أو دقيق أو سويق أو صاعا من شعير كما في صدقة الفطر فإن أعطى عشرة مساكين كل مسكين مدا مدا إن أعاد عليهم مدا مدا جاز

البحر الرائق: (316/4، ط: دار الکتاب الاسلامی)
ويتعدد اليمين بتعدد الاسم لكن يشترط تخلل حرف القسم.....وفي التجريد عن أبي حنيفة إذا حلف بأيمان فعليه لكل يمين كفارة والمجلس والمجالس سواء۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 859 Jul 05, 2019
ghebat na karne or hojanay mai apni aamdani kay das feesad ka sadqa karne ka ehed karne ka hukum, Ruling on taking oath on not backbiting and giving ten percent of income in charity on backbiting

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.