عنوان: شوہر کا میسیج پر مختلف اوقات میں تین صریح طلاقیں دینے کا حکم (18027-No)

سوال: مفتی صاحب! میرے شوہر نے مجھے 23-11-1 کو میسیج کیا کہ میں تمہیں پہلی طلاق دیتا ہوں، پہلی طلاق کے تین دن بعد شوہر نے رجوع کرلیا تھا، پھر 24-5-5 کو میسیج کیا کہ فارغ ہو تم میری طرف سے بتادو گھر والوں کو، پھر 24-5-16 رات کو میسیج کیا کہ صبح تم اسکول گئیں تو طلاق ہے تمہیں اور صبح میں اسکول چلی گئی، پھر 24-5-17 کو صبح میسیج کیا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور 24-5-17 شام کو ابو کو فون پر وائس میسیج کیا کہ صبح یہ اسکول گئی تو اس کو تیسری طلاق ہے میری طرف سے اور صبح کو میں اسکول چلی گئی۔ براہ مہربانی مجھے مذکورہ بالا تحریر پڑھ کر فتویٰ جاری فرمائیں کہ کیا مجھ کو طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعتاً درست ہے اور شوہر بذریعہ میسیج مختلف اوقات میں تین طلاقیں دینے کا اقرار کرتا ہے تو ایسی صورت میں اس عورت پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور یہ عورت حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہے، اب ان کے درمیان میاں بیوی کا تعلق باقی نہیں رہا اور شرعاً اب رجوع بھی ممکن نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلائل:

الفتاوی الهندية: (الفصل السادس، 378/1، ط: دار الفکر)
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص کراچی

Print Full Screen Views: 46 Jun 05, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.