عنوان: شادی شدہ آدمی کا نامحرم لڑکی سے رابطہ کرنے کا حکم (18090-No)

سوال: میں شادی شدہ اور تین بچوں کا باپ ہوں، لیکن میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔ لڑکی بھی مجھ سے پیار کرتی ہے اور میں بھی اس سے پیار کرتا ہوں۔ خاتون (لڑکی) نے اس بارے میں اپنے گھر والوں سے بات کی، لیکن وہ نہیں مانے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا، اس سے کہا کہ وہ مجھ سے تمام تعلقات منقطع کر دے۔ تاہم ہم اب بھی ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں، اپنے تعلقات کو حلال بنانا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس معاملے میں لڑکی کو کیا کرنا چاہیے؟ کیا اسے زبردستی اپنے والدین کی بات سن کر آگے بڑھنا چاہیے یا انہیں بتائے بغیر مجھ سے شادی کر لینی چاہیے؟
دوسری بات یہ کہ کیا وہ مجھ سے اپنا تعلق برقرار رکھے یا اسے منقطع کرے؟ کیا چھپ کر نکاح کرنا جائز ہے یا والدین کی مرضی کے مطابق زبردستی نکاح کرنا چاہیے؟ مجھے آپ کے مشورے اور جواب کا انتظار ہے۔

جواب: سب سے پہلے یہ واضح رہے کہ بغیر نکاح کے کسی آدمی اور لڑکی کا آپس میں ناجائز رابطے قائم کرنا اور تعلقات بڑھانا حرام اور ناجائز ہے، نامحرم کے ساتھ محبت اور پیار کا خیال محض وسوسہ اور شیطان کی طرف سے دھوکہ ہے، لڑکی اور لڑکا دونوں کے لیے یہ گناہ کا کام ہے، اور اگر کوئی شادی شدہ ہو اور تین بچوں کا باپ ہو تو اس کے لیے یہ اور زیادہ سخت گناہ اور بے شرمی کا عمل ہے، اس لیے اس عمل سے سچے دل سے توبہ اور استغفار کرنا اور ایک دوسرے سے ناجائز تعلق ختم کرنا لازم ہے۔
جہاں تک نکاح اور شادی کا تعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر آپ دونوں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق برابری کرسکتے ہوں تو لڑکی کے گھر رشتہ بھیج کر نکاح کا پیغام دیا جاسکتا ہے، اور پھر اگر لڑکی کے والدین راضی ہوں تو یہ نکاح کرنا درست ہے، لیکن والدین کی اجازت کے بغیر خفیہ طورپر ازخود نکاح کرنا عُرفاً شرم و حیاء کے خلاف ہے، جس سے احتراز کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (الأحزاب، الآية: 32)
يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَد مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ ‌فَلَا ‌تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا o

و قوله تعالی: (النور، الایة: 19)
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ‌ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ o

و قوله تعالی: (النساء، الآية: 3)
فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا o

سنن الترمذي: (رقم الحديث: 1172، ط: دار الغرب الإسلامي، بيروت)
عن ‌جابر؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ‌لا ‌تلجوا على ‌المغيبات، فإن الشيطان يجري من أحدكم مجرى الدم. قلنا: ومنك؟ قال: ومني، ولكن الله أعانني عليه فأسلم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 80 Jul 03, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.