عنوان: بیوی، شوہر اور والد کی مشترکہ رقم سے خریدی ہوئی جائیداد کا حکم (18092-No)

سوال: حضرت! آج سے نو سال پہلے میری بیوی نے اپنا ساڑھے آٹھ تولے (8.5) سونا فروخت کرکے گھر خریدنے کے لیے مجھے دیا، جس کی اس وقت قیمت پانچ لاکھ تھی۔ ہم نے انتیس لاکھ کا گھر خرید کر چھپن لاکھ میں فروخت کردیا۔
میری اپنی بیوی کے ساتھ ناچاقی ہوگئی ہے، اب وہ اپنے پیسوں کا مطالبہ کررہی ہیں، میری بیوی نے رقم دیتے ہوئے ہدیہ یا شراکت داری کا کچھ نہیں کہا تھا، جیسے عام طور پر بیویاں اپنے شوہروں کو پیسے دے دیتی ہیں، اس طرح کچھ کہے بغیر انہوں نے مجھے پیسے دیے تھے۔ نیز اس فلیٹ می والد صاحب کے نو لاکھ لگے تھے، جس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے وراثت تقسیم کررہے ہیں، اس کے علاوہ ہم نے پلاٹ لیے ہیں، جس میں میری بیوی کے پانچ لاکھ شامل ہیں، مگر پلاٹ پر ابھی منافع شروع نہیں ہوا ہے۔ براہ کرم آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اب کس حساب سے وہ پیسے واپس کرنا ہوں گے؟

جواب: واضح رہے کہ جو فلیٹ مشترکہ رقم سے خریدا جائے اور اس میں کسی فریق کی دوسرے فریق کو رقم ہدیہ (Gift) دینے کی وضاحت نہ ہو تو اس میں رقم ملانے والے سب افراد اپنی اصل رقم کے تناسب سے اس کی ملکیت میں شریک ہوتے ہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جو فلیٹ آپ نے خریدا اور اس میں بیوی نے اپنا سونا بیچ کر رقم ملائی تو اس فلیٹ کی ملکیت میں آپ کی بیوی بھی اپنی رقم کے تناسب سے شریک تھی، لہٰذا جب فلیٹ بِک گیا تو اس کی قیمت میں سے بیوی اور دیگر تمام شرکاء کو اسی تناسب سے رقم فراہم کی جائے، چنانچہ 29 لاکھ میں جتنا تناسب آپ کی رقم کا تھا، اسی تناسب سے 56 لاکھ میں آپ کو حصہ ملے گا، اور 29 لاکھ میں بیوی کی رقم کا جو تناسب تھا، اسی تناسب سے 56 لاکھ میں سے اسے حصہ ملے گا۔ اسی طرح آپ کے والد کے پیسوں کا بھی حکم ہے، جسے ان کے موجودہ شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔
اسی طرح جن پلاٹوں کی خریداری میں بیوی کی رقم شامل تھی، ان کا بھی یہی حکم ہے کہ پلاٹ کی موجود قیمت (مارکیٹ ویلیو) کے حساب سے بیوی کے حصہ کا تناسب نکال کو بیوی کو دے دیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (301/2، ط: دار الفكر)
الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما، كذا في التهذيب.. وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار ... وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان، كذا في الاختيار شرح المختار، وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك..الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 54 Jul 03, 2024

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.