سوال:
کیا بیٹی کا نام علیزہ رکھ سکتے ہیں؟
جواب: "علیزه" (Aleezah)لفظ عربی لغات میں نہیں ملا، غالباً یہ لفظ عربوں کے ہاں اس طرح استعمال نہیں ہوتا، البتہ اس کا مادہ جو کہ ’’علز‘‘ ہے، اس کے عربی میں کئی ملتے جلتے معانی آتے ہیں، مثلاً: ڈانٹ ڈپٹ، خوف کی شدت، درد، موت کے وقت کا اضطراب اور کرب وغیرہ۔
یہ نام اپنے معنی کے اعتبار سے مناسب نہیں ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس کے بجائے بچی کا نام ازواجِ مطہرات یا صحابیات رضوان اللہ علیہن میں سے کسی کے نام پر، یا کوئی بھی اچھے معنیٰ والا نام رکھ لیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
لسان العرب: (380/5، ط: دار صادر)
علز: العلز: الضجر. والعلز: شبه رعدة تأخذ المريض أو الحريص على الشيء كأنه لا يستقر في مكانه من الوجع، علز يعلز علزا وعلزانا، وهو علز، وأعلزه الوجع؛ تقول: ما لي أراك علزا وأنشد: علزان الأسير شد صفادا
والعلز أيضا: ما تبعث من الوجع شيئا إثر شيء كالحمى يدخل عليها السعال والصداع ونحوهما. والعلز: القلق والكرب عند الموت؛ قالت أعرابية ترثي ابنها وإذا له علز وحشرجة … مما يجيش به من الصدر. وفي حديث علي، رضي الله عنه: هل ينتظر أهل بضاضة الشباب إلا علز القلق؟
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی