resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیٹے کا نام” محمد عبدان “اور بیٹی کا نام ”محمد کسوہ“ رکھنا

(37697-No)

سوال: السلام علیکم، میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد عبدان اور بیٹی کا نام محمد کسوہ سوچا ہے۔ براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں اور ان ناموں کی درست اردو اور انگریزی اسپیلنگ بھی بتا دیں، نیز ان کے معانی بھی بیان فرما دیں۔ اپنا قیمتی علم ضرور عطا فرمائیں۔

جواب: ” عَبْدَان“ (عین کے زبر، باء کے ساکن، دال کے زبر اور نون کے ساکن کے ساتھ ) لفظ ”عَبْدٌ“ سے لیا گیا ہے اس کے آخر میں الف اور نون تثنیہ کے لیے ہیں اور اگر ”عِبْدَان“(عین کے زیر، باء کے ساکن، دال کے زبر، نون کے ساکن کے ساتھ ) پڑھا جائے تو پھر یہ ”عَبْدٌ“ کی جمع شمار ہوگا، دونوں صورتوں میں اس کا معنی ”غلام، محکوم اور بندہ “کے ہی آتے ہیں۔
اسی طرح لفظ "کِسْوَہ "(کاف کے زیر، سین کے ساکن، واو کے زبر،اور ہاء کے ساکن کے ساتھ) یا "کُسْوَہ" (کاف کے پیش، سین کے ساکن، واو کے زبراور ہاء کے ساکن ساتھ) دونوں درست ہیں، دونوں ہی صورتوں میں اس کے معنی ”لباس، اور پہناوے “کے ہیں۔
لہذا بیٹے کا نام محمد عبدان (muhammad abdan)اور بیٹی کا نام کسوہ (Kiswah, Kuswah) رکھنا درست ہے، البتہ لڑکی کے نام کے شروع میں لفظ محمد لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل :

القاموس الوحید: (ص: 838، ط: ادارہ اسلامیات)
العبد: غلام، محکوم (۲) بندہ (انسان خواہ آزاد ہو یا غلام) ج: عبید و عبد واعبد وعُبدان

لسان العرب: (15/ 223، ط: دار صادر)
كسا: الكسوة والكسوة: ‌اللباس، ‌واحدة ‌الكسا؛ قال الليث: ولها معان مختلفة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Islamic Names