سوال:
مفتی صاحب! بیٹی کیلئے ایزال اور ایلیہ نام رکھنا کیسا ہے؟ کیا یہ اسلامی نام ہیں؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: عربی زبان میں "ایزال" کا معنی ہے: قحط سالی ہونا، معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔
"ایلیا" (آخر میں ہمزہ کے بغیر) یا "ایلیاء" (آخر میں ہمزہ کے ساتھ) عبرانی زبان میں حضرت الیاس علیه السلام کو کہتے ہیں، نیز بیت المقدّس کو بھی کہا جاتا ہے، لہذا بچی کا نام اس کے بجائے صحابیات میں سے کسی صحابیہ کے نام پر یا کوئی سا اچھا معنی والا نام رکھ لیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل
القاموس الوحید: (ص: 102، 119، ط: ادارہ اسلامیات)
آزلت السنة ایزالاً: قحط سالی ہونا۔
ایلیاء: بیت المقدس۔
فیروز اللغات: (ص: 158، ط: فیروز سنز)
ایلیا(ایل۔یا) (عب۔۱۔مذ)(۱)یروشلم (۲) الیاس کا عبرانی تلفظ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی