عنوان: شرکاء کا قربانی کے جانور میں مشترکہ طور پر ایک حصہ آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا   (101960-No)

سوال: اگر ایک گائے میں چھ حصہ دار ہوں، وہ سب مل کر ساتویں حصے کے پیسے دیں اور اس حصے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کردیں تو ایسا کرنا درست ہے؟

جواب: متعدد  افراد مل کر ایک حصہ آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا چاہیں تو  راجح قول کے مطابق قربانی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سب لوگ  اپنے حصے کی رقم کسی ایک کو ہبہ (گفٹ) کردیں، پھر ایک کی طرف سے نفلی قربانی حضورﷺ کے لیے کی جائے۔اس سے قربانی کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا اور ان شاء اللہ باقی شرکاء (جنہوں نے اپنے حصے کی رقم ہبہ کردی ہے وہ) بھی پورے ثواب کے حق دار ہوں گے۔
      ''بدائع الصنائع'' میں ہے:
'' وأما قدره فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمةً سمينةً تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد، وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر، فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.
فإن قيل: أليس أنه روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لايذبح من أمته، فكيف ضحى بشاة واحدة عن أمته عليه الصلاة والسلام؟
(فالجواب): أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب؛ وهو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته لا للإجزاء وسقوط التعبد عنهم، ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء''.
(5/70، کتاب الاضحیہ، ط: سعید)

قربانی و عقیقہ میں مزید فتاوی

24 Aug 2019
ہفتہ 24 اگست - 22 ذو الحجة 1440

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com