resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شرکاء کا قربانی کے جانور میں مشترکہ طور پر ایک حصہ آپ ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا

(1960-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر ایک گائے میں چھ حصہ دار ہوں، وہ سب مل کر ساتویں حصے کے پیسے دیں اور اس حصے کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے کردیں توکیا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب: واضح رہے اگر سات سے کم افراد اس طور پر بڑے جانور میں شریک ہوں کہ مجموعی طور پر ہر ایک کا کم از کم ایک مکمّل ساتواں حصّہ بنتا ہو، پھر اس کے بعد کچھ حصوں میں کسر (یعنی ایک مکمل حصّے سے کم ہونا) واقع ہوجائے تو راجح قول کے مطابق ایسی صورت میں شرعاً قربانی درست ہوجائے گی، مثلاً: چار افراد مل کر ایک بڑا جانور خریدیں اور ہر شریک کا کم از کم ایک مکمّل حصہ بنتا ہو، پھر بقایا تین حصے مشترکہ طور پر آپس میں تقسیم کرلیں تو یہ جائز ہے، کیونکہ اس صورت میں اگرچہ ان تین حصوں کو مشترکہ طور پر تقسیم کرنے کی صورت میں کسر واقع ہوگا اور مستقل طور پر کسر کی قربانی درست نہیں ہوتی، لیکن جب کسر کو کسی ایک مکمّل حصے کے تابع قرار دیا جائے تو اس وقت کسر کی قربانی بھی درست ہوجائے گی، اور وہ مکمّل حصّہ اور کسر مل کر ایک شخص کی طرف سے قربانی ہوگی۔ (مأخذ :فتاویٰ عثمانی، ج4، ص 109 تا 118، بتصرف)
لہٰذا سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر چھ شرکاء آخری ایک حصہ میں شریک ہوجائیں تو چونکہ ان کا پہلے سے ایک مستقل حصہ موجود ہے، اس لیے یہ کسر ان کے مکمل حصوں کے تابع ہوگا اور اس مشترکہ حصہ کی قربانی حضور اکرم ﷺ کی طرف سے درست ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مرقاة المفاتيح: (509/3، ط: دار الکتب العلمیۃ)
«الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ» أَيْ: أَنْ تُجْزِئَ عَنْ سَبْعَةِ أَشْخَاصٍ. ......قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْأَكْثَرُونَ تَجُوزُ الْأُضْحِيَّةُ بِالْإِبِلِ وَالْبَقَرِ عَنْ سَبْعَةٍ، وَلَا تَجُوزُ عَنْ أَكْثَرَ لِمَفْهُومِ هَذَا الْحَدِيثِ.

الدر المختار: (315/6، ط: سعید)
(أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر؛ سميت به لضخامتها، ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد، وتجزي عما دون سبعة بالأولى.

رد المحتار: (316/6، ط: سعید)
(قوله وتجزي عما دون سبعة) الأولى عمن لأن ما لما لا يعقل، وأطلقه فشمل ما إذا اتفقت الأنصباء قدرا أو لا لكن بعد أن لا ينقص عن السبع۔

بدائع الصنائع: (71/5، ط: دار الکتب العلمیۃ)
ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى، وسواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت؛ بأن يكون لأحدهم النصف وللآخر الثلث ولآخر السدس بعد أن لا ينقص عن السبع ولو اشترك سبعة في خمس بقرات أو في أكثر فذبحوها أجزأهم؛ لأن لكل واحد منهم في كل بقرة سبعها، ولو ضحوا ببقرة واحدة أجزأهم فالأكثر أولى.

تبیین الحقائق: (4/4، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
ولو كانت البدنة بين اثنين نصفان يجوز في الأصح؛ لأن نصف السبع يكون تبعا لثلاثة الأسباع

الفتاوی الھندیۃ: (304/5، ط: دار الفکر)
والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، والتقدير بالسبع يمنع الزيادة، ولا يمنع النقصان، كذا في الخلاصة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

shuraka ka qurbani kay janwar mai mushtara tour par aik hissa aap sallaho alaihi wasallam ki taraf say qurbani karna , The participants jointly sacrificed a portion / part of the sacrificial animal on behalf of the Prophet

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa