resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: دو ملکوں میں مشترکہ قربانی کے دن ہوں تو ایک ملک والے کا دوسرے ملک میں قربانی کا جانور کس وقت ذبح کرسکتے ہیں؟

(42094-No)

سوال: مفتی صاحب! اس مرتبہ سعودیہ، پاکستان، امریکا اور کینیڈا وغیرہ میں ایک ہی دن عید ہوگی، بیرونِ ملک مقیم لوگوں نے اپنی قربانی پاکستان میں کروانے کے لیے ذمہ داری دی ہو تو ایسی صورت میں اگر وہاں ابھی عید اور قربانی کا وقت شروع نہ ہوا ہو لیکن یہاں پاکستان میں قربانی کا وقت شروع ہوچکا ہو اور ہم ان کی طرف سے قربانی کردیں تو کیا یہ قربانی درست ہوگی؟

جواب: واضح رہے کہ شریعتِ مطہّرہ میں قربانی کی ادائیگی کو مخصوص ایّام اور مقررہ اوقات کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے، اس لیے قربانی کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قربانی کے دن شروع ہوچکے ہوں اور ذبح کے وقت قربانی کا وقت باقی بھی ہو۔
چونکہ اس سال 1446ھ / 2026ء میں پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، کینیڈا اور کئی دیگر ممالک میں قربانی کے ایام ایک ہی دن آرہے ہیں، اس لیے بیرونِ ملک مقیم افراد کی قربانی پاکستان میں اس وقت درست ہوگی جب دونوں ملکوں میں عید کا دن شروع ہوچکا ہو، اگرچہ ان کے ملک میں عید کی نماز ابھی ادا نہ ہوئی ہو، اس صورت میں پاکستان کے جس شہر میں قربانی کا جانور موجود ہو، اس شہر میں کسی ایک مقام پر نمازِ عید ادا ہونے کے بعد قربانی کی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (5/ 73، ط: دار الکتب العلمیة)*
وأما الذي يرجع إلى وقت التضحية فهو أنها لا تجوز قبل دخول الوقت

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (5/ 65، ط؛ دار الکتب العلمیة)*
وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحى - وهو اليوم العاشر من ذي الحجة - والحادي عشر، والثاني عشر وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلى غروب الشمس من الثاني عشر

*فتح القدير للكمال ابن الهمام: (9/ 506، ط؛ دار الفکر)*
إن سبب وجوب الأضحية الوقت وهو أيام النحر

*فتح القدير للكمال ابن الهمام (9/ 511، ط؛ دار الفکر)*
(قوله ووقت الأضحية يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر، إلا أنه لا يجوز لأهل الأمصار الذبح حتى يصلي الإمام العيد)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Qurbani & Aqeeqa