سوال:
مفتی صاحب! عام طور پر بیویوں کے پاس موجود سونا اور زیورات انہی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں، اگرچہ وہ ہمارے (شوہر کے) پیسوں سے خریدے گئے ہوں۔ اور ظاہر ہے کہ اکثر بیویوں کے پاس قربانی کرنے کے لیے اپنی ذاتی رقم نہیں ہوتی، سوائے ان خواتین کے جو خود کماتی ہوں۔ تو ایسی صورت میں صحیح طریقۂ کار کیا ہوگا؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جواب: قربانی کے واجب ہونے کے بارے میں ہر شخص کے اپنے نصاب کا اعتبار ہے، لہذا اگر بیوی صاحب نصاب ہو تو شوہر کے ذمّہ اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب نہیں ہے، البتہ اگر شوہر اپنی خوشی و رضامندی سے بیوی کی اجازت سے اس کی طرف سے قربانی کرلے تو یہ اس کی طرف سے تبرّع و احسان ہوگا اور بیوی کی قربانی ادا ہوجائے گی۔
چونکہ عموماً ہمارے ہاں بیویاں خود کماتی نہیں ہیں، اس لیے شوہر اگر حسنِ معاشرت اور تعاون کا معاملہ کرتے ہوئے بیوی کی طرف سے بھی قربانی کا اہتمام کرلے تو یہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے باعثِ شرف اور اجر و ثواب ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الأضحیة، 312/6، ط: دار الفکر)*
"وشرائطھا الإسلام والإقامة والیسار الذي یتعلق بہ وجوب صدقة الفطر اھ
قوله: ”والیسار الخ“ : بأن ملک مائتي درھم أو عرضاً یساویھا غیر مسکنہ وثیاب اللبس أو متاع یحتاجہ إلی أن یذبح الأضحیة الخ،
*الفتاوى الهندية: (191/1، ط: دار الفکر)*
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".
*و فیھا ایضاً: (الباب الثامن فی صدقة الفطر، 302/5، ط: دار الفکر)*
ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لا تجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعا؛ لأن نصيب من لم يأمر صار لحما فصار الكل لحما۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی