سوال:
ہم نے قربانی کے لئے ایک بکری خریدی ہے جس کے تھنوں میں دودھ ہے اب اگر اس کا دودھ نہ نکالیں تو اس کو تکلیف ہوتی ہے تو کیا اس کا دودھ نکال کر ہم استعمال کرسکتے ہیں؟
جواب: واضح رہے کہ قربانی کے لیے جو جانور خریدا گیا ہو، اس سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں۔
لہذا سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر قربانی کے لیے خریدی گئی بکری کے تھنوں میں دودھ ہے اور اسے نہ نکالنے کی صورت میں اس کو تکلیف ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں اس کا دودھ نکال کر صدقہ کر دیا جائے، خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*المبسوط للسرخسی (125/15، ط: دار المعرفة)*
(ألا ترى) أن ولد الأضحية يثبت فيه الحكم تبعا، وأن لبن الأضحية إذا حلبت يتصدق به.
*المبسوط للسرخسی (15/12، ط: دار المعرفة)*
«قال: (ويكره له أن يحلب الأضحية إذا كان لها لبن فينتفع بلبنها كما يكره له الانتفاع بصوفها)؛ لأن اللبن يتولد من عينها، وقد جعلها للقربة فلا يصرف شيئا منها إلى منفعة نفسه قبل أن يبلغ محله، ولكنه ينضح ضرعها بالماء البارد حتى يتقلص منه اللبن، ولا يتأدى به إلا أن هذا إنما ينفع إذا كان يقرب من أيام النحر.»
*الفتاوى الهندية: (300/5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)*
«ولو اشترى شاة للأضحية يكره أن يحلبها أو يجز صوفها فينتفع به؛ لأنه عينها للقربة فلا يحل له الانتفاع بجزء من أجزائها قبل إقامة القربة بها، كما لا يحل له الانتفاع بلحمها إذا ذبحها قبل وقتها.»نوٹ: صرف ایک علمی اصلاح قابلِ توجہ ہے: آپ نے سوال میں لکھا ہے کہ "دودھ نکالیں تو اس کو تکلیف ہوتی ہے"، جبکہ فقہی عبارت میں حکم
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص کراچی