عنوان: قربانی کے لیے دو جانور خریدے گئے، ان میں سے ایک مر گیا اب کیا حکم ہے؟   (101961-No)

سوال: مفتی صاحب ! میرا ایک دوست نے دو گائین اور ایک دنبہ کی قربانی کی نیت سے جانور خریدا، دنبہ کسی وجہ سے مر گیا، صاحب نصاب ان کے گھر میں ایک ہی فرد ہیں، کیا اس کو جانور دوبارہ خریدنا ہو گا؟ اگر ہاں تو کیا وہہی جانور خریدنا ہو گا؟

جواب: صاحب نصاب شخص کے ذمے ایک قربانی کرنا واجب ہے اور یہ واجب، قربانی کرنے سے ہی ادا ہوگا، لہذا اگر دو جانور خریدے ہوں اور ایک جانور مر جائے، تو اس کی جگہ دوسرا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو جانور موجود ہے، اسی کے ذریعے قربانی ادا ہوجائے گی۔

لمافی الدر المختار:
"ولو ضلت او سرقت فشری اخری فظھرت فعلی الغنی احداھما وعلی الفقیر کلاھما".
(الدر المختار مع رد المحتار: کتاب الاضحیۃ: ۶/ ٣٢۶)

وفی بدائع الصنائع:
"أَنَّ الشِّرَاء َ لِلْأُضْحِیَّةِ مِمَّنْ لَا أُضْحِیَّةَ عَلَیْه یَجْرِی مَجْرَی الْإِیجَابِ وَهوَ النَّذْرُ بِالتَّضْحِیَةِ عُرْفًا؛ لِأَنَّهُ إذَا اشْتَرَی لِلْأُضْحِیَّةِ مَعَ فَقْرِہِ فَالظَّاہِرُ أَنَّه یُضَحِّی فَیَصِیرُ کَأَنَّهُ قَالَ : جَعَلْت هذِہِ الشَّاةَ أُضْحِیَّةً ، بِخِلَافِ الْغَنِیِّ ؛ لِأَنَّ الْأُضْحِیَّةَ وَاجِبَةٌ عَلَیْهِ بِإِیجَابِ الشَّرْعِ ابْتِدَاء ً فَلَا یَکُونُ شِرَاؤُہُ لِلْأُضْحِیَّةِ إیجَابًا بَلْ یَکُونُ قَصْدًا إلَی تَفْرِیغِ مَا فِی ذِمَّتِه". (بدائع الصنائع: ۵/ ٤٢، ط:کوئٹہ)

قربانی و عقیقہ میں مزید فتاوی

24 Aug 2019
ہفتہ 24 اگست - 22 ذو الحجة 1440

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com