عنوان: کیا سارے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی ہے؟   (101968-No)

سوال: براہ کرم اس بارے میں کوئی حدیث بتا دیں کہ ہر گھر میں صرف ایک بندے کا قربانی کرنا فرض ہے یا ُاس کے گھر میں جتنے بھی صاحبِ نصاب ہیں، سب کو الگ الگ قربانی کرنا ہوگی ؟

جواب: واضح ہو کہ گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہونے کی صورت میں تمام گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ گھر کے ہر صاحبِ نصاب فرد پر اپنی  اپنی قربانی کرنا واجب اور لازم ہے، گھر کے کسی ایک فرد کے قربانی کرنے سے باقی افراد  کے ذمہ سے واجب قربانی ساقط نہیں ہوگی۔
کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر صاحبِ نصاب پر مستقل علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے۔

کذا فی سنن ابن ماجه :
"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا»".
(1044/2)

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ قربانی ایک عبادت ہے، لہٰذا دیگر عبادات (نماز ، روزہ، حج، زکاۃ ) کی طرح قربانی بھی ہر مکلف کے ذمہ الگ الگ واجب ہوگی۔

کذا فی سنن الترمذي:
"حدثنا قتيبة قال: حدثنا مالك بن أنس، عن أبي الزبير، عن جابر قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحديبية البدنة عن سبعة، والبقرة عن سبعة».
(89/4)
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ھم نے حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اونٹ ذبح کیا سات لوگوں کی طرف سے اور گائے ذبح کی سات لوگوں کی طرف سے۔

قربانی و عقیقہ میں مزید فتاوی

24 Aug 2019
ہفتہ 24 اگست - 22 ذو الحجة 1440

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com