عنوان: ماتم کرنے اور دیکھنے کا حکم   (102054-No)

سوال: شیعوں کا ماتم دیکھنے کے لئے جانا کیسا ہے؟

جواب:
واضح رہے کہ کربلا میں حضرت امام حسینؓ کی اپنے ساتھیوں سمیت شہادت شہداء کربلا کے لیے طمغہ امتیاز ہے، اور قرآن مجید میں شہداء کو زندہ کہا گیا ہے:
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اَمْوَاتٌ ۚ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۔
 البقرہ، الایہ 154
ترجمہ: اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے۔

مشکوۃ میں ہے:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے رخسار پیٹے ، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کا پکارنا پکارے۔''
(متفق علیہ بحوالہ مشکوٰۃ: 1725)

شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں:
ولو جاز ان یتخذ یوم موتہ یوم مصیبۃ لکان یوم الاثنین اولیٰ بذلک اذ قبض ﷲ تعالیٰ نبیہ محمداً ﷺفیہ وکذالک ابو بکر الصدیق رضی اﷲ عنہ قبض فیہ۔
ترجمہ: اگر حضرت حسینؓ کی شہادت کا دن یوم مصیبت و ماتم کے طور پر منایا جائے تو پیر کا دن اس غم کے لئے زیادہ سزا وار ہے، کیونکہ اس دن حضرت رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وفات پائی ہے اور اسی دن میں حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے بھی وفات پائی ہے۔ (حالانکہ کوئی ایسانہیں کرتا) غنیۃ الطالبین ج ۲ ص ۳۸)

لھذا حضرت حسین ؓ اور شہداء کربلا کی یاد میں ماتم کرنا اور دیکھنا جائز نہیں ہے ۔



(مزید سوال و جواب کیلئے وزٹ کریں)
http://AlikhlasOnline.com

بدعات و رسومات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com