عنوان: لبیک یا رسول اللّٰہ، لبیک یاحسین کہنے کا حکم   (102064-No)

سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب ! لبیک یا رسول اللّٰہ، لبیک یا حسین کہنا کیسا ہے؟ جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ لفظ "یا" عربی زبان میں مخاطب (حاضر) کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اہل السنت والجماعت کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں، اللہ تعالی کی طرح ہر جگہ حاضر ناظر نہیں ہیں، لہذا اگر کوئی شخص اس عقیدے سے "یارسول اللہ" کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں، تو یہ ناجائز ہے، اور شرک ہے، البتہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اتفاقا ایسے الفاظ ادا کر لے، یا کوئی شخص روضہ اقدس پر "یارسول اللہ" کہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ جبکہ "لبیک یا حسین" کہنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔

لما فی البھیقی:
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلی علی عند قبری سمعتہ ومن صلی علی نائیا ابلغتہ۔
(ج2،ص209)

کما فی البحر الرائق:
قال علمائنا: من قال ارواح المشایخ حاضرۃ تعلم، تکفر ۔
(ج5، ص209)

(مزید سوال و جواب کیلئے وزٹ کریں)
http://AlikhlasOnline.com

بدعات و رسومات میں مزید فتاوی

15 Sep 2019
اتوار 15 ستمبر - 15 محرّم 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com