عنوان: حرمیں شریفین میں کفار کے داخل ہونے کا حکم(102145-No)

سوال: مفتی صاحب ! کیا یہ شرعی طور پر ہے کہ غیر مسلم کو مکہ اور مدینہ منورہ میں حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔؟

جواب: قرآن کریم میں اس بارے میں جو آیت نازل ہوئی ہے، وہ یہ ہے:
ارشاد باری تعالی ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا ۚ
(سورۂ براءہ: آیت نمبر: ﴿۲۸﴾)

ترجمہ:
اے ایمان والو ! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں، لہذا وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔
( آسان ترجمۂ قرآن)
حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکین کو اگلے سال سے حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس لیے کہ اس آیت کریمہ کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو اعلان کروایا اس کے الفاظ یہ تھے کہ "لایحجن بعد العام مشرک" یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا۔
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۂ براءہ)
لہذا یہ اسلام کا ایک سیاسی حکم تھا، کہ جس قدر مشرکین مکہ میں موجود تھے، ان سب سے حرم کو خالی کرانا مقصود تھا، تاکہ آئندہ اس کے غلبہ کا کوئی خطرہ نہ رہے۔
اس آیت کا تعلق مسجد میں نجاست کی حالت میں داخلے سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے مردوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حیض کی حالت میں عورتوں کے قریب بھی نہ جائیں اور مراد یہ ہے کہ ان سے جماع نہ کریں، چنانچہ ان کے قریب جانا ممنوع نہیں ہے، اسی طرح کفار حج تو نہیں کرسکتے، لیکن کسی اور ضرورت سے مسجد حرام یا کسی اور مسجد میں ان کا داخلہ بالکلیہ ممنوع نہیں ہے۔ چنانچہ مشرک و کافر حرم شریف میں کسی ضرورت کی بنا پر جانا چاہے، تو وہ سربراہ مملکت کی اجازت سے جاسکتا ہے، لیکن وہاں وہ اپنے مشرکانہ اعمال نہیں کرے گا۔
کیونکہ فتح مکہ کے بعد قبیلہٴ ثقیف کا ایک وفد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد حرام میں ٹھہرایا، حالانکہ وہ وفد کافروں کا تھا، صحابہٴ کرام نے عرض بھی کیا: یا رسول اللہ یہ نجس لوگ ہیں ان کو آپ نے مسجد میں ٹھہرایا، تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: مسجد کی زمین پر ان کی نجاست کا کوئی اثر نہیں پڑتا، اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کو جو نجس کہا گیا ہے وہ کفر وشرک کی نجاست ہے، نہ کہ ظاہری نجاست۔ ظاہری نجاست کی حالت میں تو مسلمان و کافر دونوں کا داخلہ ممنوع ہے۔
پھر جمہور علماء کے نزدیک آیت میں "مسجد حرام" سے مراد پورا حدود حرم ہے، جس کا دائرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھینچا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دائرہ اور وسیع کردیا، کہ پورے جزیرة العرب سے کافروں کو نکالنے کا حکم فرمادیا کہ مکہ مکرمہ اسلام کی مرکزی جگہ ہے اور یہ اسلام کا قلعہ ہے، یہاں کسی غیرمسلم کو رکھنا گوارا نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو پورا کیا، کہ انہوں نے یہودیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دیا، اس طرح پورا جزیرہ عرب کفار و مشرکین کے وجود سے خالی ہوگیا۔ جب پورے حدود حرم بلکہ جزیرہٴ عرب میں مشرکین کا داخلہ ممنوع ہوگیا، تو ان کو مسجد حرام میں آنے کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا۔
(ماخوذ از تفسیر معارف القرآن، و آسان ترجمہ قرآن، باختصار وتصرف یسیر)
اس سے حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حدیث و فقہ میں بصیرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 754
harmain shareefain me / honey kuffar ke / key daakhil hone / honey ka hukum / hukm

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.