سوال:
کیا بچے کا نام نافع رکھا جا سکتا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ یہ اللہ تعالی کا نام ہے، عبد کی اضافت کے بغیر یہ نام نہیں رکھنا چاہیے، براہ کرم وضاحت فرمادیں۔
جواب: "نافع" (Naafey) کا معنیٰ ہے نفع بخش، سود مند۔ یہ نام اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، نیز یہ نام صحابہ کرام کے اسماء میں سے بھی ہے، جن ميں نافع بن بدیل مشہور صحابی ہیں، اس لیے بچے کے لیے اس نام کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔
جہاں تک اس کے ساتھ "عبد" لگانے کا تعلق ہے تو چونکہ یہ باری تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں میں سے ہے، جو باری تعالیٰ کے ساتھ مختص نہیں ہے، بلکہ یہ غیر اللہ پر بھی بولا جاتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ عبد لگانا ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
أسد الغابة في معرفة الصحابة: (284/5، ط: دار الکتب العلمیة)
نَافِع بن بديل بن ورقاء تقدم نسبه فِي ترجمة أبيه، وَكَانَ هُوَ وأبوه وإخوته من فضلاء الصحابة وجلتهم. قَالَ ابن إسحاق: قتل نَافِع بن بديل بن ورقاء يوم بئر معونة، مع المنذر بن عَمْرو، وَعَامِر بن فهيرة، فِي أربعين رجلا من خيار المسلمين، فقال عبد الله بن رواحة يبكي نافعا.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی