عنوان: لڑکی والوں کی طرف سے بارات کے موقع پر کھانا کھلانے کا حکم     (102235-No)  

سوال: کیا لڑکی والوں کا نکاح میں اپنے قریبی لوگوں کو كھانا کھلانا جائز ہے؟ جبکہ لڑکے والوں کی طرف سے کوئی دباو نہ ہو.

جواب: رخصتی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے باراتیوں یا مہمانوں کو کھانا کھلانا ولیمہ کی طرح مسنون اور مستحب نہیں ہے، لیکن حرام اور ناجائز بھی نہیں ہے، بلکہ جائز اور مباح امور میں سے ہے، اگر لڑکی والے نمود ونمائش سے بچتے ہوئے، کسی قسم کی زبردستی اور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی و رضا سے اپنے اعزاء اور مہمانوں کوکھانا کھلائیں تو مہمانوں کے لیے، اس طرح کی دعوت کا کھانا کھانا جائز ہے، اور اگر لڑکی والے خوشی سے نہ کھلائیں تو زبردستی کرکے لڑکی والوں سے کھانا کھانا جائز نہیں ہوگا۔

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

دلائل:
کذا فی الصحیح لمسلم:
عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعي أحدكم إلى طعام، فليجب، فإن شاء طعم، وإن شاء ترك»".
(ج2، ص 1054، کتاب الحج، باب زواج زینب بنت جحش، برقم: 1430، ط:دار احیاء التراث)

وفیہ أیضاً:
عن نافع، قال: سمعت عبد الله بن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أجيبوا هذه الدعوة إذا دعيتم لها»، قال: «وكان عبد الله بن عمر يأتي الدعوة في العرس، وغير العرس، ويأتيها وهو صائم»".
(ج2، ص1053، کتاب الحج، باب زواج زینب بنت جحش، برقم: 1430، ط:دار احیاء التراث)

کذا فی المشکوۃ:
عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ ﷺ الا لا تظلموا الا لا یحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ الخ (ج1، ص255، سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"جو لوگ لڑکی والے کے مکان پر آتے ہیں اور ان کا مقصود شادی میں شرکت کرنا ہے اور ان کو بلایا بھی گیا ہے تو آخر وہ کھانا کہاں جاکر کھائیں گے!اور اپنے مہمان کو کھلانا تو شریعت کا حکم ہے، اور حضرت نبی اکرم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے"۔
(ج12،ص142، باب العروس والولیمہ، ط:فاروقیہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

نکاح میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

16 Oct 2019
بدھ 16 اکتوبر - 16 صفر 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com