سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، حضرت! ایک آدمی نے اپنی بیوی کو یہ تین جملے کہے کہ میں نے آپ کو طلاق دی، میں نے آپ کو طلاق دی اور میں نے آپ کو دی۔ تیسرے جملے میں طلاق کا لفظ نہیں کہا تو اس میں اب طلاق کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں جب شوہر نے بیوی کو یہ کہا "میں نے آپ کو طلاق دی، میں نے آپ کو طلاق دی اور میں نے آپ کو دی" اس میں پہلے دو الفاظ طلاق میں صریح ہیں اور تیسرے لفظ یعنی "اور میں نے آپ کو دی" میں طلاق کا لفظ محذوف ہے، جس پر سابقہ کلام دلالت کر رہا ہے، اس لیے ان الفاظ سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوگئی ہے، اب دونوں میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
فتاوى قاضيخان: (227/1)
قال لامرأته أنت واحدة وهوى به الطلاق يقع واحدة أعرب الواحدة أو لم يعرب ولو قال لامرأته توبسه في حال مذاكرة الطلاق أو الغضب طلقت ثلثاً.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی