سوال:
ایک شخص پر غسل فرض ہے، لیکن دفتر جانے کیلئے دیر ہونے کی وجہ سے وہ غسل چھوڑ دیتا ہے، ایسی صورت میں نماز کے اوقات میں تیمم کرکے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ پانی کے استعمال پر قادر ہوتے ہوئے تیمم کرنا جائز نہیں ہے اور دفتری مشغولیت کی وجہ سے غسل نہ کرنا قابل قبول عذر نہیں ہے، لہذا جب کسی شخص پر غسل فرض ہو جائے تو اس کو نماز فجر سے پہلے اٹھ کر غسل کا اہتمام کرنا چاہیے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ نماز قضا ہو جائے، سخت گناہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (المائدۃ، الآیۃ: 6)
فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا۔۔۔۔الخ
و قولہ تعالی: (المریم، الآیۃ: 59)
فخَلفَ من بعدہم خلفٌ اضاعوا الصلوۃ واتبعوا الشہوات فسوف یلقون غیّاo
و قولہ تعالی: (الماعون، الآیۃ: 5،4)
فویل للمصلّینo الذین ہم عن صلوتہم ساہونo
التفسیر المظہري: (29/6)
(أضاعوا) أي ترکوا (الصلوۃ) المفروضۃ ، وقال ابن مسعود وإبراہیم : أخروہا عن وقتہا ، وقال سعید بن المسیب : ہو أن لا یصلي الظہر حتی یأتي العصر ، ولا العصر حتی تغرب الشمس ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی