سوال:
میں اسلام کو سمجھنے کے سفر میں بالکل نئی ہوں۔ الحمدللہ! ’ونٹر بریک‘ کے دوران مجھے موقع ملا کہ میں اسلام کے بارے میں تحقیق شروع کروں، قرآنِ مجید کے کچھ چھوٹے حصے پڑھوں اور صحیح احادیث کے چند اقتباسات کا مطالعہ کروں، میں ایک عاجز مبتدی ہوں۔
میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا اسلام قبول کرنے کی میری کوششیں درست طریقے سے ہوئیں یا نہیں؟ میں نے اس مہینے کے آغاز میں بیماری کی حالت میں اکیلے ہی کلمۂ شہادت پڑھنے کی کوشش کی، جبکہ میں نے غسل نہیں کیا تھا۔
جو کچھ میں نے سمجھا ہے، اس کے مطابق بعض (شاید اقلیتی) علماء کے نزدیک خاص طور پر اگر کوئی غیر مسلم حالتِ جنابت (بڑی ناپاکی) میں اسلام قبول کرے تو غسل ایک لازمی مرحلہ ہے، چاہے کلمہ پڑھنے سے پہلے کیا جائے یا بعد میں، تاکہ اسے مسلمان تسلیم کیا جائے۔ کیا یہ بات درست ہے؟
جواب: سب سے پہلے آپ کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں اسلام کی محبت ڈالی اور آپ نے اسلام قبول کرلیا ہے، اللہ پاک آپ کو اس پر استقامت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین
واضح رہے کہ صرف اسلام قبول کرنے کے لیے غسل کرنا ضروری نہیں ہے، لہذا اگر کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں سابقہ باطل دین سے براءت اور کلمۂ شہادت پڑھ کر صدقِ دل سے اسلام قبول کرنے کے بعد زبانی اقرار بھی کرچکا ہے تو یہ شخص مسلمان شمار کیا جائے گا، البتہ چونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد بندہ شریعت کی طرف سے مقرر کی گئی عبادات کا مکلّف بن جاتا ہے اور شریعت کی طرف سے مقرر کی گئی پنچ وقتہ عبادت (نماز) ناپاکی (جنابت، حیض اور نفاس) کی حالت میں ادا نہیں ہوتی ہے، اس لیے نماز کی ادائیگی سے پہلے نو مسلم مرد/عورت کو ناپاکی (جنابت، حیض اور نفاس) سے طہارت حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: آئندہ بھی اگرآپ کو اسلام سے متعلق کوئی بھی کنفیوژن (Confusion) ہو تو آپ بلا تکلّف ہمارے اس پلیٹ فارم پر سوال پوچھ سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
سنن النسائی: (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه، باب : ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه - غسل الكافر إذا أسلم، رقم الحدیث: 188، مکتبة المطبوعات الاسلامیة)
اخبرنا عمرو بن علي، قال: حدثنا يحيى، قال: حدثنا سفيان، عن الاغر وهو ابن الصباح، عن خليفة بن حصين، عن قيس بن عاصم، انه اسلم" فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يغتسل بماء وسدر".
الدر المختار مع رد المحتار: (4/ 221،ط: الحلبی)
وهو تصديق محمد صلى الله عليه وسلم في جميع ما جاء به عن الله تعالى مما علم مجيئه ضرورة وهل هو فقط أو هو مع الإقرار؟ قولان وأكثر الحنفية على الثاني والمحققون على الأول والإقرار شرط۔ لإجراء الأحكام الدنيوية۔
قوله هو تصديق إلخ) معنى التصديق قبول القلب، وإذعانه لما علم بالضرورة أنه من دين محمد صلى الله عليه وسلم بحيث تعلمه العامة من غير افتقار إلى نظر واستدلال كالوحدانية والنبوة والبعث والجزاء، ووجوب الصلاة والزكاة وحرمة الخمر ونحوها. اه. ح عن شرح المسايرة (قوله وهل هو فقط) أي وهل الإيمان التصديق فقط، وهو المختار عند جمهور الأشاعرة وبه قال الماتريدي عن شرح المسايرة (قوله أو هو مع الإقرار) قال في المسايرة: وهو منقول عن أبي حنيفة، ومشهور عن أصحابه وبعض المحققين من الأشاعرة وقال الخوارج: هو التصديق مع الطاعة، ولذا كفروا بالذنب لانتفاء جزء الماهية وقال الكرامية: هو التصديق باللسان فقط فإن طابق تصديق القلب، فهو مؤمن ناج وإلا فهو مؤمن مخلد في النار. اه. ح قلت: وقد حقق في المسايرة أنه لا بد في حقيقة الإيمان من عدم ما يدل على الاستخفاف من قول أو فعل ويأتي بيانه.
(قوله والإقرار شرط) هو من تتمة القول الأول أما على القول الثاني فهو شطر لأنه جزء من ماهية الإيمان، فلا يكون بدونه مؤمنا لا عند الله تعالى، ولا في أحكام الدنيا لكن بشرط أن يدرك زمنا يتمكن فيه من الإقرار وإلا فيكفيه التصديق اتفاقا كما ذكره التفتازاني في شرح العقائد (قوله لإجراء الأحكام الدنيوية) أي من الصلاة عليه، وخلفه والدفن في مقابر المسلمين والمطالبة بالعشور، والزكوات ونحو ذلك ولا يخفى أن الإقرار لهذا الغرض لا بد أن يكون على وجه الإعلان، والإظهار على الإمام وغيره من أهل الإسلام، بخلاف ما إذا كان لإتمام الإيمان فإنه يكفي مجرد التكلم، وإن لم يظهر على غيره كذا في شرح المقاصد.
وفیه ایضاً: (226/4، ط: الحلبی)
وإسلامه أن يتبرأ عن الأديان) سوى الإسلام (أو عما انتقل إليه) بعد نطقه بالشهادتين، وتمامه في الفتح؛ ولو أتى بهما على وجه العادة لم ينفعه ما لم يتبرأ بزازية.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (الفصل الأول فيما يجوز به التوضؤ، 1/ 16، ط:دار الفكر بيروت)
الكافر إذا أجنب ثم أسلم يجب عليه الغسل في ظاهر الرواية.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی