سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته!
میں آپ سے ایک دینی مسئلے کے بارے میں رہنمائی چاہتی ہوں۔ میں ایک معذور لڑکی ہوں اور میرے لیے بار بار اٹھنا بیٹھنا اور مکمل وضو کرنا بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ جب میں وضو کر کے نماز کے لیے آتی ہوں تو تھوڑی دیر بیٹھنے کی وجہ سے اکثر گیس خارج ہو جاتی ہے، جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس حالت میں دوبارہ اٹھ کر وضو کرنا میرے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی وجہ سے میں اکثر تیمم کر کے نماز جاری رکھ لیتی ہوں، کیونکہ جسمانی طور پر دوبارہ اٹھنا ممکن نہیں ہوتا، صبح کے وقت میں پورا وضو کر لیتی ہوں، اس کے بعد بعض اوقات وضو کر لیتی ہوں لیکن زیادہ تر نمازیں تیمم کے ساتھ ادا کرتی ہوں۔
میں آپ سے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آیا میرا یہ طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور اگر اس میں کوئی کمی یا غلطی ہے تو براہِ کرم مجھے صحیح طریقہ بتا دیں تاکہ میرا عمل اللہ کے نزدیک درست ہو۔
میں عموماً صاف دیوار یا پاک دوپٹے سے تیمم کر لیتی ہوں، اس بارے میں بھی رہنمائی چاہتی ہوں کہ آیا یہ درست طریقہ ہے یا نہیں؟
الحمدللہ! مجھے تہجد اور پانچوں وقت کی نماز کی توفیق ملتی ہے، لیکن دل میں یہ خیال آتا رہتا ہے کہ کہیں میرا تیمم والا طریقہ غلط تو نہیں ہے، اسی لیے میں آپ سے باقاعدہ شرعی رہنمائی لینا چاہتی ہوں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر گیس کے خارج ہونے کا دورانیہ اس تسلسل کے ساتھ ہو کہ آپ کو نماز کے پورے وقت میں اتنا موقع بھی نہیں مل پاتا جس میں وضو کر کے فرض نماز بغیر عذر کے ادا کر سکیں تو ایسی صورت میں آپ شرعی معذور شمار ہوں گی، یعنی گیس خارج ہونے کی وجہ سے بار بار آپ کے لیے وضو کرنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ ایک نماز کے وقت میں وضو کرنے کے بعد اس نماز کا وقت ختم ہونے تک اسی وضو سے آپ کے لیے ہر قسم کی نماز، تلاوت وغیرہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس دوران گیس خارج ہونے کے عذر کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ نماز کا وقت ختم ہوتے ہی وضو ٹوٹ جائے گا اور دوسری نماز کے لیے نیا وضو کرنا لازم ہوگا۔
واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں تیمم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ معذور کے لیے ذکر کردہ سہولت کے مطابق وضو کرنا ضروری ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (کتاب الطھارۃ، باب الحیض، 305/1، ط: سعید)
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه ۔۔۔(إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)
بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.
(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في - {لدلوك الشمس} [الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه.
وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.۔۔۔
(و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی