عنوان: سالگرہ کی تقریب میں جانا اور کھانا کھانا(102710-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ سالگرہ کی تقریب میں جانا کیسا ہے ؟ اور سالگرہ کا كھانا كھانا جائز ہے ؟

جواب: زندگی ایک عظیم نعمت اور عطیہ خداوندی ہے، اس کا صحیح استعمال انسان کے درجات کو بلند کرتا اور اسےضائع کرنا، انسان کو ہلاک کرتا ہے، قیامت میں انسان کو اپنے ہر قول و عمل کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے پورا حساب دینا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر عمل کو کرنے سے پہلے اس بات کو بخوبی سوچ بچار کرلے کہ اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں وہ کیا صفائی پیش کرے گا؟ آج مسلمانوں نے دیگر اقوام کی دیکھا دیکھی بہت سی چیزیں اپنی زندگی میں لازم و ضروری قرار دے لی ہیں، انہی میں سے "سالانہ یومِ پیدائش" یعنی برتھ ڈے کی رسم بھی ہے۔

واضح رہے کہ سالگرہ غیر مسلموں کا طریقہ اور مغربی ثقافت کی دین ہے، جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، نبی کریم ﷺ نے غیروں کی مشابہت سے اجتناب کا حکم دیا ہے ، لھذا سالگرہ منانا، کیک کاٹنا، سالگرہ کی مبارک باد دینااور سالگرہ کی تقریب میں جانا غیر اسلامی قوموں کے اثرات ہیں، اس لیے ایسے رسم ورواج سے بچنا چاہیے۔
تاہم کیک اور دیگر اشیاء کا کھانا اگر حلال آمدنی سے ہو تو اس کو کھانا جائز ہے۔ زندگی ایک عظیم نعمت اور عطیہ خداوندی ہے، اس کا صحیح استعمال انسان کے درجات کو بلند کرتا اور اسےضائع کرنا، انسان کو ہلاک کرتا ہے، قیامت میں انسان کو اپنے ہر قول و عمل کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے پورا حساب دینا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر عمل کو کرنے سے پہلے اس بات کو بخوبی سوچ بچار کرلے کہ اس عمل کے ارتکاب کی صورت میں وہ کیا صفائی پیش کرے گا؟ آج مسلمانوں نے دیگر اقوام کی دیکھا دیکھی بہت سی چیزیں اپنی زندگی میں لازم و ضروری قرار دے لی ہیں، انہی میں سے "سالانہ یومِ پیدائش" یعنی برتھ ڈے کی رسم بھی ہے۔

واضح رہے کہ سالگرہ غیر مسلموں کا طریقہ اور مغربی ثقافت کی دین ہے، جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، نبی کریم ﷺ نے غیروں کی مشابہت سے اجتناب کا حکم دیا ہے ، لھذا سالگرہ منانا، کیک کاٹنا، سالگرہ کی مبارک باد دینااور سالگرہ کی تقریب میں جانا غیر اسلامی قوموں کے اثرات ہیں، اس لیے ایسے رسم ورواج سے بچنا چاہیے۔
تاہم کیک اور دیگر اشیاء کا کھانا اگر حلال آمدنی سے ہو تو اس کو کھانا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
قال اللہ تعالیٰ:
وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہ.
(العمران، الایۃ85)

لما فی الصحیح لمسلم:
عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد.

(باب نقض الاحکام الباطنہ ورد محدثات الامور، رقم الحدیث1718،ج3، ص1343، داراحیاء الکتب العلمیہ)

کذا فی السنن الترمذی:
حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا، ‏‏‏‏‏‏لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ،‏‏‏‏ وَلَا بِالنَّصَارَى ‏‏‏‏الخ.
(کتاب الاستیذان، رقم الحدیث 2695، ج4، ص480،دارالحدیث قاہرہ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

(مزید سوالات و جوابات کیلئے ملاحظہ فرمائیں)
http://AlikhlasOnline.com

معاشرت (اخلاق وآداب ) میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals

06 Dec 2019
جمعہ 06 دسمبر - 8 ربيع الثانی 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com