عنوان: نکاح منعقد ہونے کے لئے مجلس نکاح میں دو گواہوں کا موجود ہونا شرط ہے (102716-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگے۔ جناب میں نے مفتی طارق مسعود صاحب کا ایک بیان سنا، جس میں انہوں نے بتایا کہ جب ایک لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو سچے دِل سے قبول کر کے نارملی بھی 3 بار قبول ہے کہہ دیں تو انکا نکاح ہو جاتا ہے۔ میں اور میری منگیتر ایک دوسرے سے آن لائن ویڈیو کال پر 3 ، 3 بار کہہ چکے ہیں کہ میں نے آپ سے نکاح کرلیا ہے، تو کیا ھمارا نکاح ہو گیا ہے؟ جزاک اللہ

جواب: نکاح منعقد ہونے کے لئے مجلس نکاح میں دو گواہوں کا موجود ہونا شرط ہے، لہذا اگر بغیر گواہوں کے ایجاب و قبول ہوجائے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ مفتی طارق مسعود صاحب کے کہنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف گواہ ہوں اور لڑکا، لڑکی ان کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لمافی الھدایة:
ﻗﺎﻝ: " ﻭﻻ ﻳﻨﻌﻘﺪ ﻧﻜﺎﺡ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﺇﻻ ﺑﺤﻀﻮﺭ ﺷﺎﻫﺪﻳﻦ ﺣﺮﻳﻦ ﻋﺎﻗﻠﻴﻦ ﺑﺎﻟﻐﻴﻦ ﻣﺴﻠﻤﻴﻦ ﺭﺟﻠﻴﻦ ﺃﻭ ﺭﺟﻞ ﻭاﻣﺮﺃﺗﻴﻦ۔(کتاب النکاح، ج:، ص: ط:)

وفی البحرالرائق:
(ﻗﻮﻟﻪ: ﻋﻨﺪ ﺣﺮﻳﻦ ﺃﻭ ﺣﺮ ﻭﺣﺮﺗﻴﻦ ﻋﺎﻗﻠﻴﻦ ﺑﺎﻟﻐﻴﻦ ﻣﺴﻠﻤﻴﻦ، ﻭﻟﻮ ﻓﺎﺳﻘﻴﻦ ﺃﻭ ﻣﺤﺪﻭﺩﻳﻦ ﺃﻭ ﺃﻋﻤﻴﻴﻦ ﺃﻭ اﺑﻨﻲ اﻟﻌﺎﻗﺪﻳﻦ) ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﻴﻨﻌﻘﺪ ﺑﻴﺎﻥ ﻟﻠﺸﺮﻁ اﻟﺨﺎﺹ ﺑﻪ، ﻭﻫﻮ اﻹﺷﻬﺎﺩ ﻓﻠﻢ ﻳﺼﺢ ﺑﻐﻴﺮ ﺷﻬﻮﺩ ﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ «اﻟﺒﻐﺎﻳﺎ اﻟﻻﺗﻲ ﻳﻨﻜﺤﻦ ﺃﻧﻔﺴﻬﻦ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺑﻴﻨﺔ» ﻭﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﻣﺮﻓﻮﻋﺎ «ﻻ ﻧﻜﺎﺡ ﺇﻻ ﺑﺸﻬﻮﺩ» ﻓﻜﺎﻥ ﺷﺮﻃﺎ ﻭﻟﺬا ﻗﺎﻝ: ﻓﻲ ﻣﺂﻝ اﻟﻔﺘﺎﻭﻯ ﻟﻮ ﺗﺰﻭﺝ ﺑﻐﻴﺮ ﺷﻬﻮﺩ ﺛﻢ ﺃﺧﺒﺮ اﻟﺸﻬﻮﺩ ﻋﻠﻰ ﻭﺟﻪ اﻟﺨﺒﺮ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﺠﺪﺩ ﻋﻘﺪا ﺑﺤﻀﺮﺗﻬﻢ. (کتاب النکاح، ج:3 ، ص:94،ط:دارالکتاب الاسلامی۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

نکاح میں مزید فتاوی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

06 Dec 2019
جمعہ 06 دسمبر - 8 ربيع الثانی 1441

Copyright © AlIkhalsonline 2019. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com