سوال:
اگر سر کے بالوں پر رنگ وغیرہ لگا ہوا ہو اور غسل واجب ہو جائے تو غسل کرنے سے پہلے سر دھویا جائے گا یا وضو کر کے غسل کر لیا جائے؟
جواب: عام طور پر بالوں کا رنگ تبدیل کرنے کے لیے جو مہندی، خضاب یا رنگ (Dye) وغیرہ لگائے جاتے ہیں، وہ پانی کے جلد تک پہنچنے سے مانع نہیں ہوتے، یعنی وہ لگا لینے سے پانی رکتا نہیں، بلکہ جلد تک پہنچ جاتا ہے، اس قسم کی مہندی یا رنگ وغیرہ کو استعمال کرنے کے بعد اگر غسل واجب ہوجائے تو عام طریقہ سے غسل کرنے سے غسل ہوجاتا ہے، البتہ اگر کوئی رنگ ایسا ہو جس کی تہہ بالوں پر جم جاتی ہو جو کہ مشاہدہ سے معلوم ہو سکتا ہے تو ایسے رنگ کوہٹائے بغیر غسل نہیں ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (4/1، ط: دار الفکر)
والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل. كذا في السراج الوهاج ناقلا عن الوجيز.
الدر المختار: (154/1، ط: دار الفکر)
(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی