سوال:
اگر کوئی اپنا کفن پہلے سے تیار کرکے رکھ لے تو کیا یہ بدعت ہوگی؟
جواب: زندگی میں ہی آدمی اپنے لیے کفن کا انتظام کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ”بردہ“ لے کر آئیں پھر سہل نے موجود لوگوں سے کہا تمہیں معلوم ہے، کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ بردہ شملہ کو کہتے ہیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک صحابی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے، آپ مجھے اس کو عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کر وہ لنگی بدل کر تہہ کر کے عبدالرحمٰن کو بھیج دی تو لوگوں نے ان صاحب کو ملامت سے کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لنگی مانگ کر اچھا نہیں کیا، تم نے دیکھ لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح قبول کیا تھا گویا آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود تم نے لنگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو آپ انکار نہیں کرتے۔ اس صحابی نے عرض کیا کہ میں تو صرف اس کی برکت کا امیدوار ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن چکے تھے میری غرض یہ تھی کہ میں اس لنگی میں کفن دیا جاؤں گا۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6036)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (رقم الحدیث:6036، ط: دار طوق النجاة)
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال: حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال:" جاءت امراة إلى النبي صلى الله عليه وسلم ببردة، فقال سهل للقوم: اتدرون ما البردة، فقال القوم: هي الشملة، فقال سهل: هي شملة منسوجة فيها حاشيتها، فقالت: يا رسول الله اكسوك هذه، فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا إليها فلبسها، فرآها عليه رجل من الصحابة، فقال: يا رسول الله ما احسن هذه فاكسنيها، فقال: نعم، فلما قام النبي صلى الله عليه وسلم لامه اصحابه، قالوا: ما احسنت حين رايت النبي صلى الله عليه وسلم اخذها محتاجا إليها ثم سالته إياها، وقد عرفت انه لا يسال شيئا فيمنعه، فقال: رجوت بركتها حين لبسها النبي صلى الله عليه وسلم لعلي اكفن فيها".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی