سوال:
مفتی صاحب! میرے جاننے والی ایک خاتون کا نکاح ایک بڑی عمر کے مرد سے ہوا ہے جس سے ان کی شرعی حاجت بھی پوری نہیں ہوتی، نفقہ دینے میں بھی ٹال مٹول کرتا ہے اور شوہر کے دو اور بھائی ہے جو رات کو اس کے پاس سونے کی کوشش کرتے ہیں شوہر کو بتایا بھی مگر وہ کہتا ہے کہ کوئی بات نہیں چلتا رہتا ہے، یعنی بے غیرتی کی انتہا کردی ہے، غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ عورت سے جتنا برداشت ہو سکتا تھا کرلیا اب کہتی ہے کہ مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا تو کیا ان مذکورہ صورتوں کی وجہ سے عورت کو خلع لینے کا اختیار ہے یا نہیں؟
اگر اختیار نہیں ہے تو پھر عورت اپنی ضرورت کیسے پورا کرے جبکہ شوہر پورا نہیں کر پا رہا ہے؟ اور نفقہ کا کیا کرے کیونکہ شوہر تو دینے میں بہت ٹال مٹول کرتا ہے؟ اس کے علاوہ شوہر کے بھائیوں سے خود کو کیسے اور کب تک بچائے جبکہ شوہر بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہا؟ عورت کہتی ہے کہ مجھے اب کسی بھی حال میں مزید یہاں نہیں رہنا۔
مہربانی فرماکر مذکورہ بالا تمام صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شرعی حکم بتا دیجیے اور جتنا جلد ہوسکے کیونکہ عورت کافی مجبور اور تنگ آچکی ہے۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ شخص حقوقِ زوجیت ادا کرنے سے بالکل قاصر نہیں ہے، بلکہ مردانہ کمزوری کا شکار ہے، نیز بقدرِ ضرورت نان نفقہ ( کھانے پینے، لباس اور رہائش) کا بھی کسی حد تک انتظام کرتا ہے تو یہ دونوں ایسے اسباب نہیں ہیں کہ جن کی بناء پر عدالت سے فسخِ نکاح کے لیے رجوع کیا جاسکے۔
البتہ اگر واقعتاً اس کے بھائی اس کی بیوی کے ساتھ حیاء کی حد کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ شخص روکنے کے بجائے ان کے اس فعل پر بے غیرتی کا مظاہرہ کر رہا ہے تو اوّلاً خاندان کے معتبر لوگوں کے ذریعے اس کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے بھائیوں سے الگ ایسے گھر یا کمرے کا انتظام کرے جہاں اس کی عزّت و آبرو کو مکمل تحفظ حاصل ہو، نیز نان نفقہ اور مردانہ کمزوری وغیرہ کے حوالے سے جو بھی شکایات ہیں، ان کو دور کرنے پر بھی اس کو آمادہ کیا جائے، سمجھانے کے باوجود اگر پھر بھی وہ عورت کی عزّت کو تحفّظ نہیں دے پاتا تو ایسی صورت میں اس کو طلاق دلانے پر مجبور کیا جائے، یا اس کی اس دیُّوثِیّت (کمینہ پن) کی بناء پر عدالت سےتنسیخِ نکاح کے لیے رجوع کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (النساء، الآية: 35)
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُوا۟ حَكَمࣰا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمࣰا مِّنۡ أَهۡلِهَاۤ إِن یُرِیدَاۤ إِصۡلَٰحࣰا یُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَیۡنَهُمَاۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا خَبِیرا...الخ
مشکواۃ المصابیح: (رقم الحدیث: 3655، 1084/2، ط: المكتب الإسلامي)
عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ثلاثة قد حرم الله عليهم الجنة: مدمن الخمر والعاق والديوث الذي يقر في أهله الخبث ". رواه أحمد والنسائي
الشرح الكبير للشيخ الدرير وحاشية الدسوقي: (345/2، ط: دار الفكر)
(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها، نحو يا بنت الكلب يا بنت الكافر يا بنت الملعون كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها لا بمنعها من حمام وفرجة وتأديبها على ترك صلاة أو تسر أو تزوج عليها ومتى شهدت بينة بأصل الضرر فلها اختيار الفراق.
شرح الخرشي على مختصر خليل: (4/9، ط: دار الفكر)
(ص) ولها التطليق بالضرر ولو لم تشهد البينة بتكرره (ش) يعني أنه إذا ثبت بالبينة عند القاضي أن الزوج يضارر زوجته وهي في عصمته ولو كان الضرر مرة واحدة فالمشهور أنه يثبت للزوجة الخيار فإن شاءت أقامت على هذه الحالة وإن شاءت طلقت نفسها بطلقة واحدة بائنة لخبر «لا ضرر ولا ضرار» فلو أوقعت أكثر من واحدة فإن الزائد على الواحدة لا يلزم الزوج، ومن الضرر قطع كلامه عنها، وتحويل وجهه عنها، وضربها ضربا مؤلما لا منعها الحمام أو تأديبها على الصلاة والتسري، والتزوج عليها وكلام المؤلف إذا أرادت الفراق فلا ينافي قوله وبتعديه زجره الحاكم لأن ذلك إذا أرادت البقاء وظاهر قوله ولها إلخ أنه يجري في غير البالغين ثم إنه يجري هنا هل يطلق الحاكم أو يأمرها به ثم يحكم به قولان.
امداد المفتین جامع: (208/7، ط: ادارۃ المعارف)
فتاویٰ حقانیه: (510/4، ط: مکتبه احمد شھید)
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی