سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! ہمارے ایک دوست کی بیوی پہلی ڈیلیوری کیس میں وفات پاگئی، بچی پیدا ہوئی اور زندہ ہے، ہمارے دوست نے پانچ تولے سونے کے زیورات نکاح کے وقت ہی بطور مہر دیے تھے، مرحومہ کے والدین اور تین بھائی حیات ہیں اور دوست کے والدین بھی حیات ہیں۔
(1) معلوم یہ کرنا ہے کہ مرحومہ کے ورثاء کون ہیں؟ (2) جہیز کے سامان اور پانچ تولے زیورات کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
جواب: 1) پوچھی گئی صورت میں مرحومہ کے ورثاء والد، والدہ، بیٹی اور شوہر ہیں اور مرحومہ کی تمام میراث انہی چار ورثاء کے درمیان شرعی تناسب سے تقسیم ہوگی، جبکہ مرحومہ کی ساس اور سسر مرحومہ کے شرعی وارث نہیں ہیں۔
2) مرحومہ کی قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کی کل میراث (پانچ تولے سونا، جہیز کا سامان، پیسے اور جو کچھ مرحومہ کی ملکیت میں تھا) کو تیرہ (13) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے شوہر کو تین (3)، بیٹی کو چھ (6)، مرحومہ کے والد کو دو (2) اور والدہ کو دو (2) حصے ملیں گے۔
فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں تو شوہر کو ٪23.07 فیصد، بیٹی کو ٪46.15 فیصد، والد کو ٪15.38 فیصد اور والدہ کو ٪15.38 فیصد حصہ ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ...الخ
القرآن الکریم: (النساء، الایة: 12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ
الھندیة: (الباب الثانی فی ذوی الفروض، 447/6، ط: دار الفکر)
و يستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب و هو القرابة، و السبب وهو الزوجية، والولاء
حاشية ابن عابدين = رد المحتار: ( 206/2، - ط: الحلبي)
(واختلف في الزوج والفتوى على وجوب كفنها عليه) عند الثاني (وإن تركت مالا) خانية ورجحه في البحر بأنه الظاهر لأنه ككسوتها
مطلب في كفن الزوجة على الزوج
(قوله: واختلف في الزوج) أي في وجوب كفن زوجته عليه (قوله عند الثاني) أي أبي يوسف وأما عند محمد فلا يلزمه لانقطاع الزوجية بالموت، وفي البحر عن المجتبى أنه لا رواية عن أبي حنيفة لكن ذكر في شرح المنية عن شرح السراجية لمصنفها أن قول أبي حنيفة كقول أبي يوسف (قوله: وإن تركت مالا إلخ) اعلم أنه اختلفت العبارات في تحرير قول أبي يوسف ففي الخانية والخلاصة والظهيرية: أنه يلزمه كفنها، وإن تركت مالا وعليه الفتوى وفي المحيط والتجنيس والواقعات وشرح المجمع لمصنفه إذا لم يكن لها مال فكفنها على الزوج وعليه الفتوى وفي شرح المجمع لمصنفه إذا ماتت ولا مال لها فعلى الزوج الموسر اه ومثله في الأحكام عن المبتغى بزيادة وعليه الفتوى ومقتضاه أنه لو معسرا لا يلزمه اتفاقا وفي الأحكام أيضا عن العيون كفنها في مالها إن كان وإلا فعلى الزوج ولو معسرا ففي بيت المال. اه. والذي اختاره في البحر لزومه عليه موسرا أو لا لها مال أو لا لأنه ككسوتها وهي واجبة عليه مطلقا قال: وصححه في نفقات الولوالجية. اه.
الفتاوى الهندية: (1/ 161، ط: دارالفکر)
ومن لم يكن له مال فالكفن على من تجب عليه النفقة إلا الزوج في قول محمد - رحمه الله تعالى - وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجب الكفن على الزوج وإن تركت مالا وعليه الفتوى، هكذا في فتاوى قاضي خان.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی