سوال:
میرے سسر کی حرکات میرے ساتھ درست نہیں ہیں، اس کی حرکات ایسی ہیں کہ کبھی وہ مجھ سے پاؤں دبواتا ہے حالانکہ اس کی جوان بیوی موجود ہے۔ ایک دفعہ مجھ پر بیماری کی حالت طاری ہو گئی، اس نے اس حالت میں کپڑوں کے اوپر سے میرے پستان کو دبایا، دو تین موقعوں پر اس نے مجھ سے گندی گندی باتیں بھی کیں، یہ حالات میرا سسر میرے ساتھ کر رہا ہے۔ میرا سسر کہہ رہا ہے کہ میں قرآن پر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس پر گواہ میرے پاس کوئی نہیں ہے، اس لیے کہ اس وقت گھر میں میں اور سسر اکیلے ہی تھے، میرا شوہر کہتا ہے کہ میں اپنے والد کی نہ تصدیق کرسکتا ہوں اور نہ ہی تکذیب کر سکتا ہو،ں اس لیے کہ وہ قسم کھا رہے ہیں۔
میں اس گھر میں نہیں رہنا چاہتی، مہربانی فرما آپ مجھے اس کا حل بتائیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب: واضح رہے کہ بہو کے لیے اپنے سسر کی اس طرح جسمانی خدمت کرنا جس میں جسم کو براہ راست چھونا کی نوبت آتی ہو، احتیاط کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ اگر سسر بہو کے جسم کو بغیر حائل کے یا باریک کپڑے (جس سے جسم کی حرارت محسوس ہو) کے اوپر سے چھولے اور اس چھونے سے شہوت پیدا ہو یا پہلے سے موجود شہوت میں اِضافہ ہو جائے اور اس دوران انزال بھی نہ ہو تو اس عمل سے حرمتِ مصاہرت ہونے کی وجہ سے یہ بہو اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے۔
لہذا آپ کو چاہیے کہ اپنے سسر کی جسمانی خدمت سے اجتناب کریں، اس لیے کہ ذرا سی بے احتیاطی سے آپ کی ازدواجی زندگی برباد ہوسکتی ہے، اور اگر خدا نخواستہ سسر کی بدنیتی ثابت ہو جائے تو اس صورت میں آپ کو چاہیے کہ شوہر کو سمجھا کر الگ گھر میں منتقل ہو جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق:(107/3، ط: دارالکتب)
وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها و يقع في أكبر رأيه صدقها و على هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقها أو يغلب على ظنه صدقها۔
الھندیۃ: (375/1، ط: دارالفکر)
ثم المسّ إنما یوجب حرمة المصاهرة إذا لم یکن بینهما ثوبٌ ، أما إذا کان بینهما ثوب فإن کان صفیقاً لا یجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن کان رقیقاً بحیث تصل حرارة الممسوس إلی یده تثبت، کذا في الذخیرة۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی