سوال:
آپ کے تفصیلی جواب کے لیے جزاکم اللہ خیراً، تاہم چند نکات پر مزید وضاحت درکار ہے، آپ نے فرمایا کہ اگر مالی استطاعت ہو تو والدین کو الگ رکھا جا سکتا ہے، لیکن اس صورت میں ان کے حقوق پورے کرنا ضروری ہیں، براہِ کرم ان حقوق کی درج ذیل نکات کی صورت میں وضاحت فرما دیں:
1) کیا والدین کے کھانے پینے اور روزمرہ دیکھ بھال کے لیے الگ سے ملازم رکھنا ضروری ہوگا؟
2) اگر بوڑھے ماں باپ میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو کیا باقی رہ جانے والے والد یا والدہ کو بھی اکیلا ہی رکھا جا سکتا ہے یا ان کے ساتھ رہنا لازم ہوگا؟
3) خاص طور پر رات کے وقت والدین کی خبرگیری کیسے کی جائے؟ اگر بیٹا اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہو تو کیا صرف ملازم پر اعتماد کرنا کافی ہوگا؟
4) اگر تین چار بھائی ہوں اور سب الگ الگ رہتے ہوں، لیکن ایک بھائی مالی حیثیت مضبوط ہونے کے باوجود بوڑھے اور معذور والدین کو اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہو تو کیا وہ گناہ گار شمار ہوگا یا اس کا یہ عمل درست ہے؟ براہِ کرم ان تمام نکات پر ترتیب وار شرعی رہنمائی فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
جواب: واضح رہے کہ اگر میاں بیوی مال دار ہوں اور ان کی مالی حالت اچھی ہو تو عورت کے مطالبے پر بیوی کو رہائش کے لیے ایسا الگ گھر دینا لازم ہے جس میں شوہر کے دیگر رشتہ داروں کا عمل دخل نہ ہو۔ یہ بات یاد رہے کہ رہائشی گھر شوہر کی ذاتی ملکیت کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ کرایہ کا گھر دینا بھی کافی ہوگا۔ (اس کی مکمل تفصیل دار الافتاء الاخلاص سے جاری شدہ فتوی نمبر: 33499) میں دیکھی جاسکتی ہے، لیکن ساتھ میں یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ چونکہ اسلام عدل و انصاف پر مبنی دین ہے، اس لیے شریعتِ مطہّرہ نے جہاں ایک طرف بیوی کے حقوق کی ادائیگی اور اس کے ساتھ حسنِ معاشرت کی تعلیم دی ہے تو دوسری جانب والدین کے حقوق کی ادائیگی، ان کی خدمت کرنا اور ان کا ادب و احترام بھی شرعاً ضروری قرار دیا ہے، لہذا بوقتِ مجبوری والدین سے الگ رہائش کی صورت میں بھی ان کے حقوق کی ادائیگی کرنا شرعاً ضروری ہے۔
لہذا اس تفصیل کی روشنی میں سب سے پہلے تو اس بات کی کوشش کی جائے کہ بیوی کو والدین کے ساتھ ایک ساتھ رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے، لیکن اس کے باوجود بھی اگر بیوی الگ رہائش کا مطالبہ کرے تو اس کی آسان صورت یہ نکل سکتی ہے کہ رہائش کے لیے دو منزلہ گھر کا انتظام کیا جائے جس کی ایک منزل بیوی بچوں کو اور دوسری والدین کو فراہم کی جائے، اس طرح کرنے سے دونوں کا شرعی حق ادا ہوجائے گا اور بوقتِ ضرورت والدین کی عیادت اور خدمت وغیرہ تمام امور کا لحاظ رکھا جاسکتا ہے۔
نیز محتاج اور ضرورت مند والدین کا خرچہ صاحبِ استطاعت اولاد پر برابر لازم ہوتا ہے، لہذا کسی بیٹے کا باوجود استطاعت کے والدین کے خرچہ میں حصہ نہ ڈالنا درست نہیں ہے، البتہ اگر اولاد میں سے کوئی ایک یا بعض والدین کا سارا خرچہ اپنی خوشی سے برداشت کرے تو باقیوں کا ذمّہ ساقط ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر: 23)
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا۔
الدر المختار مع رد المحتار: (602/3، ط: دار الفکر)
(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) ... (وأهلها) ... (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر.
(قوله وأهلها) أي له منعهم من السكنى معها في بيته سواء كان ملكا له أو إجارة أو عارية.
(قوله بقدر حالهما) أي في اليسار والإعسار، فليس مسكن الأغنياء كمسكن الفقراء كما في البحر؛ لكن إذا كان أحدهما غنيا والآخر فقيرا؛ فقد مر أنه يجب لها في الطعام والكسوة الوسط، ويخاطب بقدر وسعه.
(قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا.
وعلى ما نقلنا عن ملتقط أبي القاسم وتجنيسه للأسروشني أن ذلك يختلف باختلاف الناس، ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق، لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى - {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: ٦]- وينبغي اعتماده في زماننا هذا فقد مر أن الطعام والكسوة يختلفان باختلاف الزمان والمكان.... إذ لا شك أن المعروف يختلف باختلاف الزمان والمكان، فعلى المفتي أن ينظر إلى حال أهل زمانه وبلده، إذ بدون ذلك لا تحصل المعاشرة بالمعروف، وقد قال تعالى - {ولا تضاروهن لتضيقوا عليهن} [الطلاق: ٦].
الهندية: (564/1، ط: دار الفکر)
قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا بخلاف الحربيين المستأمنين، ولا يشارك الولد الموسر أحدا في نفقة أبويه المعسرين كذا في العتابية.
الدر المختار مع رد المحتار: (598/2، ط: دار الفکر)
الأصل أن كل من أتى بعبادة ما ... (العبادة المالية) كزكاة وكفارة (تقبل النيابة) عن المكلف (مطلقا) عند القدرة والعجز.
(قوله: كزكاة) أي زكاة مال أو نفس كصدقة الفطر أو أرض كالعشر، ودخل في الكاف النفقات، وأشار إلى أن المراد بالمالية ما كان عبادة محضة أو عبادة فيها معنى المؤنة أو مؤنة فيها معنى العبادة كما عرف في الأصول (قوله تقبل النيابة) الأصل فيه أن المقصود من التكاليف الابتلاء والمشقة، وهي في البدنية بإتعاب النفس والجوارح ... وفي المالية بتنقيص المال المحبوب بإيصاله إلى الفقير، وهو موجود بفعل النائب.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی