سوال:
محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!عرض یہ ہے کہ میں آن لائن ٹریڈنگ کرتا تھا، جس میں اکثر نقصان ہوتا تھا تو ایک دن شدید غصے کی حالت میں صرف خود کو ٹریڈنگ سے روکنے کی نیت سے (بیوی کو طلاق دینا مقصود نہیں تھا) میں نے یہ الفاظ کہے: "اگر آئندہ میں نے ٹریڈنگ کی تو مجھ پر میری بیوی تین طلاق ہوگی۔"
بعد ازاں مجھے احساس ہوا کہ یہ الفاظ شرعاً بہت سنگین ہیں۔ واضح رہے کہ یہ الفاظ غصے میں کہے گئے، نیت طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ خود کو روکنا مقصود تھا اس کے بعد اب تک میں نے ٹریڈنگ نہیں کی نکاح بدستور قائم ہے
اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
کیا یہ الفاظ طلاق کے ہیں یا قسم کے حکم میں آتے ہیں؟ نیز اگر مستقبل میں ٹریڈنگ کی جائے توکیا طلاق واقع ہوگی یا صرف کفارۂ قسم لازم آئے گا؟ موجودہ حالت میں نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح فتویٰ عطا فرمائیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ الفاظ (اگر آئندہ میں نے ٹریڈنگ کی تو مجھ پر میری بیوی تین طلاق ہوگی) طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ہیں، جس کا حکم یہ ہے کہ ان الفاظ کے کہنے کے بعد اگر آپ نے آن لائن ٹریڈنگ کی تو بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حُرمتِ مُغَلّظہ ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی، اس لیے اس معاملہ میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
تاہم اس پریشانی سے نکلنے کے لیے یہ طریقہ ہوسکتا ہے کہ آپ اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دے کر چھوڑ دیں، جب عدت پوری ہوجائے تو آپ آن لائن ٹریڈنگ کرلیں، اُس وقت چونکہ وہ آپ کے نکاح میں نہیں رہے گی، اس لیے اس ٹریڈنگ کے ذریعے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اس کے بعد دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلیں، اس تدبیر سے مذکورہ شرط ختم ہوکر بیوی تین طلاقوں سے بچ جائے گی، اور آئندہ آن لائن ٹریڈنگ کرنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم اس صورت میں آئندہ کے لیے آپ کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الفتاوىٰ الهندية: (420/1، ط: دار الفكر)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
الدر المختار: (355/3، ط: دار الفكر)
فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی