سوال:
حضرت! ایک بات کی وضاحت فرما دیں کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جاتا ہے تو اس کے کسی عزیز کے انتظار کی شریعت میں کس حد تک اجازت ہے اور جنازہ کتنی دیر تک مؤخر کیا جا سکتا ہے؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ کسی مسلمان کے انتقال کے بعد شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کی جائے، بلا کسی عذر کے غیر معمولی تاخیر کرنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر معمولی تاخیر ہو جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر کوئی عذر ہو، جیسے میّت کا ولی کسی قریبی مقام سے آرہا ہو اور میت کے خراب ہونے یا اس میں تغیّر کا اندیشہ نہ ہو تو بعض فقہاء کرام نے صرف اس کے انتظار کی اجازت دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار:(باب صلاة الجنازة،232/2،ط:دار الفکر)
كره تأخير صلاته ودفنه ليصلي عليه جمع عظيم بعد صلاة الجمعة.
بدائع الصنائع:(ﻓﺼﻞ ﺻﻼﺓ اﻟﺠﻨﺎﺯﺓ،299/1،ط:دار الكتب العلمية)
ويستحب أن يسرع في جهازه لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: عجلوا بموتاكم فإن يك خيرا قدمتموه إليه، وإن يك شرا فبعدا لأهل النار.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(مكروهات الجنازة،1544/2،ط:دار الفكر)
ﻣﻜﺮﻭﻫﺎﺕ اﻟﺠﻨﺎﺯﺓ: ﺫﻛﺮ اﻟﻔﻘﻬﺎء ﻃﺎﺋﻔﺔ ﻣﻦ ﻣﻜﺮﻭﻫﺎﺕ اﻟﺠﻨﺎﺯﺓ، ﺃﻫﻤﻬﺎ ﻣﺎ ﻳﺄﺗﻲ:
1 - ﺗﺄﺧﻴﺮ الصلاة ﻭاﻟﺪﻓﻦ، ﻟﺰﻳﺎﺩﺓ اﻟﻤﺼﻠﻴﻦ ﺃﻭ ﻟﻴﺼﻠﻲ ﻋﻠﻴﻪ ﺟﻤﻊ ﻋﻈﻴﻢ ﺑﻌﺪ صلاﺓ اﻟﺠﻤﻌﺔ، ﺇﻻ ﺇﺫا ﺧﻴﻒ ﻓﻮﺗﻬﺎ ﺑﺴﺒﺐ ﺩﻓﻨﻪ، ﻟﻠﺨﺒﺮ اﻟﺼﺤﻴﺢ: «ﺃﺳﺮﻋﻮا ﺑﺎﻟﺠﻨﺎﺯﺓ» ﻭﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﺎﻧﺘﻈﺎﺭ اﻟﻮﻟﻲ ﻋﻦ ﻗﺮﺏ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺨﺶ ﺗﻐﻴﺮ اﻟﻤﻴﺖ.
مأخذہ التبویب دارالعلوم کراچی: (فتویٰ نمبر:36/2775)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی