سوال:
ایک شادی شدہ لڑکی کی مامی فوت ہو گئی تو وہ لڑکی اپنی مامی کے گھر والوں اور جو اقارب ادھر رہ رہے ہیں، ان کے لیے کھانا لے جاتی ہے تو وہ گھر والے اس لڑکی کو بھی بہت اصرار کرتے ہیں کہ تم اور تماری فیملی یعنی لڑکی کے سسرال والے بھی ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ تو کیا اس لڑکی اور اس کے سسرال والوں کا کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: واضح رہے کہ اہلِ میّت کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے لیے مستحب ہے کہ وہ ایک دن اور ایک رات تک اہلِ میّت کے لیے کھانا تیار کر کے ان کے گھر بھجواتے رہیں۔ اگر اہلِ میّت غم کی شدّت کے باعث کھانا نہ کھا رہے ہوں تو نرمی اور اصرار کے ساتھ انہیں کھانا کھلایا جائے۔ اسی طرح اگر یہ امید ہو کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے ان کی دل جوئی ہوگی اور غم میں کچھ کمی آئے گی تو ان کے ساتھ کھانا کھانے کی بھی اجازت ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں کھانے کا انتظام کرنے والی لڑکی اور اس کی فیملی اہل میت کے ساتھ خود بھی کھانے میں شریک ہو جائیں تو اس کی اجازت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
حاشية ابن عابدين:(باب صلاة الجنازة،240/2،ط: دار الفكر)
(ﻗﻮﻟﻪ ﻭﺑﺎﺗﺨﺎﺫ ﻃﻌﺎﻡ ﻟﻬﻢ) ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻔﺘﺢ ﻭﻳﺴﺘﺤﺐ ﻟﺠﻴﺮاﻥ ﺃﻫﻞ اﻟﻤﻴﺖ ﻭاﻷﻗﺮﺑﺎء اﻷﺑﺎﻋﺪ ﺗﻬﻴﺌﺔ ﻃﻌﺎﻡ ﻟﻬﻢ ﻳﺸﺒﻌﻬﻢ ﻳﻮﻣﻬﻢ ﻭﻟﻴﻠﺘﻬﻢ، ﻟﻘﻮﻟﻪ - ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ - "اﺻﻨﻌﻮا ﻵﻝ ﺟﻌﻔﺮ ﻃﻌﺎﻣﺎ ﻓﻘﺪ ﺟﺎءﻫﻢ ﻣﺎ ﻳﺸﻐﻠﻬﻢ" ﺣﺴﻨﻪ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﻭﺻﺤﺤﻪ اﻟﺤﺎﻛﻢ ﻭﻷﻧﻪ ﺑﺮ ﻭﻣﻌﺮﻭﻑ، ﻭﻳﻠﺢ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﻓﻲ اﻷﻛﻞ ﻷﻥ اﻟﺤﺰﻥ ﻳﻤﻨﻌﻬﻢ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﻓﻴﻀﻌﻔﻮﻥ...
ﻭﻗﺎﻝ أيضاً: ﻭﻳﻜﺮﻩ اﺗﺨﺎﺫ اﻟﻀﻴﺎﻓﺔ ﻣﻦ اﻟﻄﻌﺎﻡ ﻣﻦ ﺃﻫﻞ اﻟﻤﻴﺖ ﻷﻧﻪ ﺷﺮﻉ ﻓﻲ اﻟﺴﺮﻭﺭ ﻻ ﻓﻲ اﻟﺸﺮﻭﺭ، ﻭﻫﻲ ﺑﺪﻋﺔ ﻣﺴﺘﻘﺒﺤﺔ
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(1578/2،ط: دار الفكر)
ﺿﻴﺎﻓﺔ ﺃﻫﻞ اﻟﻤﻴﺖ ﻭﺻﻨﻊ اﻟﻄﻌﺎﻡ ﻟﻬﻢ: ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻷﻗﺮﺑﺎء اﻟﻤﻴﺖ ﻭﺟﻴﺮاﻧﻪ ﺃﻥ ﻳﺼﻨﻌﻮا ﻃﻌﺎﻣﺎ لأﻫﻞ اﻟﻤﻴﺖ، ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ ﺃﻧﻪ ﻟﻤﺎ ﻗﺘﻞ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﻛﺮﻡ اﻟﻠﻪ ﻭﺟﻬﻪ، ﻗﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: "اﺻﻨﻌﻮا ﻵﻝ ﺟﻌﻔﺮ ﻃﻌﺎﻣﺎ، ﻓﺈﻧﻪ ﻗﺪ ﺟﺎءﻫﻢ ﺃﻣﺮ ﻳﺸﻐﻠﻬﻢ ﻋﻨﻪ". ﻭﻳﺒﻌﺚ ﺑﻬﻢ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﺇﻋﺎﻧﺔ ﻟﻬﻢ، ﻭﺟﺒﺮا ﻟﻘﻠﻮﺑﻬﻢ، ﻓﺈﻧﻬﻢ ﺭﺑﻤﺎ اﺷﺘﻐﻠﻮا ﺑﻤﺼﻴﺒﺘﻬﻢ، ﻭﺑﻤﻦ ﻳﺄﺗﻲ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﻋﻦ ﺇﺻﻼﺡ ﻃﻌﺎﻡ ﻷﻧﻔﺴﻬﻢ، ﻭﻳﻜﻮﻥ اﻟﻄﻌﺎﻡ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﺸﺒﻌﻬﻢ ﻓﻲ ﻳﻮﻣﻬﻢ ﻭﻟﻴﻠﺘﻬﻢ.
ﺃﻣﺎ ﺻﻨﻊ ﺃﻫﻞ اﻟﺒﻴﺖ ﻃﻌﺎﻣﺎ ﻟﻠﻨﺎﺱ، ﻓﻤﻜﺮﻭﻩ ﻭﺑﺪﻋﺔ ﻻ ﺃﺻﻞ ﻟﻬﺎ؛ ﻷﻥ ﻓﻴﻪ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻋﻠﻰ ﻣﺼﻴﺒﺘﻬﻢ، ﻭﺷﻐﻼ ﻟﻬﻢ ﺇﻟﻰ ﺷﻐﻠﻬﻢ، ﻭﺗﺸﺒﻬﺎ ﺑﺼﻨﻊ ﺃﻫﻞ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ.
میت کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا،215/2،ط:بیت العمار کراچی)
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی