سوال:
ایک عورت نے اپنے شوہر کو تحریر لکھ کر بھیجی کہ میں آپ کو اپنا حق مہر معاف کرتی ہوں اس کے بدلے مجھے طلاق دو، شوہر کے پاس وہ تحریر پہنچ گئی تو شوہر نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بیوی نے شوہر کو میسج کیا کہ آپ نے اب تک کوئی طلاق نہیں دی، میں نے اپنے حق مہر سے واپس رجوع کر لیا ہے، آپ اب میرے اس میسج کے بعد جو طلاق دیں گے تو وہ طلاق آپ کی طرف سے ہوگی میرا حق مہر معاف نہیں ہو گا۔ اس میسج کے بعد شوہر نے تحریر پر لکھ دیا کہ میں اس فدیہ کو قبول کرتے ہوئے تیسری طلاق دیتا ہوں۔ یہ بھی واضح رہے کہ پہلے دو طلاق ہو چکی تھی اور ان کا رجوع بھی ہو چکا تھا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ عورت پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ نیز حق مہر کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم جلد از جلد جواب عنایت فرما دیں گھریلو پریشانیاں ہیں۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں جب عورت نے واضح لفظوں میں میسج کرکے حق مہر کی معافی والی بات سے رجوع کرلیا، اور شوہر کے علم میں بھی یہ بات آگئی تو اب اس کے بعد شوہر نے جو طلاق دی وہ درست ہوگئی، اور عورت کا مہر بھی معاف نہیں ہوگا۔
نیز چونکہ پوچھی گئی صورت میں دو طلاقیں پہلے ہی واقع ہوچکی ہیں، اس لیے بیوی شوہر پر اس تیسری طلاق سے حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ ہاں! اگر عورت عدّت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرلے اور اس سے ازدواجی تعلّقات بھی قائم ہوجائیں، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ عورت عدّت گزار کر دوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الهندية: (1/ 499، ط: دار الفکر)
«والطلاق على مال بمنزلة الخلع في أحكامه إلا أن البدل إذا بطل بقي الطلاق بائنا وعوض الطلاق إذا بطل يقع رجعيا وإذا وجب يقع بائنا كذا في محيط السرخسي.»
نجم الفتاوی: (541/6)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی