سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ میں ایک عاقل اور بالغ لڑکی ہوں اور میں نے حال ہی میں اپنے گھر والوں (والد) کو بتائے بغیر اپنی پسند سے نکاح کیا ہے، نکاح کی تقریب ویڈیو کال کے ذریعے ہوئی تھی جس میں دو مسلمان گواہ اور ایک وکیل بھی موجود تھے۔ ایجاب و قبول گواہوں کے سامنے براہِ راست ویڈیو کال پر ہوا تھا۔ میری والدہ کو اس کا علم تھا مگر والد صاحب کو نہیں بتایا گیا۔ کیا والد کی اجازت کے بغیر اور ویڈیو کال پر ہونے کی وجہ سے نکاح کی شرعی حیثیت پر کوئی فرق پڑتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے لڑکے اور لڑکی یا ان کے وکیلوں کا شرعی گواہوں (دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) کی موجودگی میں ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول کرنا ضروری ہے، جبکہ پوچھی گئی صورت میں باقاعدہ ایک ہی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول نہیں ہوا ہے، بلکہ براہ راست ویڈیو کال پر کیا گیا ہے، لہٰذا یہ نکاح درست نہیں ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔
بدائع الصنائع: (231/2، ط: دار الكتب العلمية)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الالفاظ بطريق الاصالة ينعقد بها بطريق النيابة بالوكالة والرسالة؛ لان تصرف الوكيل كتصرف الموكل وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلی الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك اما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وان فعله بغير امره فقد اجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والاجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.
فيه أيضاً: (247/2، ط: دار الکتب العلمیة)
"الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض".
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی