resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: اپنے نام کے ساتھ والد کے نام کے اضافہ کی شرعی حیثیت

(34623-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا سابقہ نام محمد شرحبيل ہے، میرے والدِ محترم کا نام حسن ہے، میں نے نسبتِ والد کے اظہار اور شناخت کی تکمیل کے لیے اپنے نام کے ساتھ “حسن” کا اضافہ کر کے نیا نام محمد شرحبيل حسن رکھا ہے، کیا شرعاً اس نوعیت کا نام کا اضافہ جائز ہے؟ آپ کی اس رہنمائی اور تعاون کے لیے پیشگی شکر گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

جواب: اسلام میں اپنے نام کے ساتھ شناخت کے لیے قومی، خاندانی یا نسبی نام کی نسبت لگانا جائز ہے، اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے، بشرطیکہ اس سے نسب میں کوئی جھوٹ یا تبدیلی لازم نہ آئے، لہذا سائل کا اپنے نام کے ساتھ حقیقی والد کے نام کو بطورِ شناخت اور نسبت کے شامل کر کے "محمد شرحبيل حسن" نام رکھنا شرعاً درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل :

القرآن الکریم: (سورة الاحزاب، الایة:5)
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْؕ-وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖۙ-وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا

تفسير الرازي: ( 7/ 97، ط: دار إحياء التراث العربي)
«كَقَوْلِهِ تَعَالَى: ‌ادْعُوهُمْ ‌لِآبائِهِمْ ‌هُوَ ‌أَقْسَطُ ‌عِنْدَ ‌اللَّهِ [الْأَحْزَابِ: 5] أَيْ أَعْدَلُ عِنْدَ اللَّهِ، وَأَقْرَبُ إِلَى الْحَقِيقَةِ مِنْ أَنْ تَنْسِبُوهُمْ إِلَى غير آبائهم.

صحيح البخاري: (3/ 1292، رقم الحدیث:3317، ط:دار ابن كثير)
عن أبي ذر رضي الله عنه: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ليس من رجل ادعى لغير أبيه - وهو يعلمه - إلا كفر، ‌ومن ‌ادعى ‌قوما ‌ليس له فيهم نسب، فليتبوأ مقعده من النار).

فتح الباري لابن حجر: (6/ 540 ط: السلفية)
وقوله: ‌ومن ‌ادعى ‌قوما ‌ليس له فيهم نسب فليتبوأ مقعده من النار في رواية مسلم، والإسماعيلي ومن ادعى ما ليس له فليس منا، وليتبوأ مقعده من النار وهو أعم مما تدل عليه رواية البخاري، على أن لفظة نسب وقعت في رواية الكشميهني دون غيره ومع حذفها يبقى متعلق الجار والمجرور محذوفا فيحتاج إلى تقدير، ولفظ نسب أولى ما قدر لوروده في بعض الروايات، وقوله: فليتبوأ أي ليتخذ منزلا من النار، وهو إما دعاء أو خبر بلفظ الأمر ومعناه هذا جزاؤه إن جوزي، وقد يعفى عنه، وقديتوب فيسقط عنه

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Islamic Names