سوال:
میں رضاعت (دودھ پلانے) اور اس کے نکاح پر اثر کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ میں فقہِ حنفی کی پیروی کرتاہوں۔ جب میں شیر خوار (دو سال کی عمر سے پہلے) تھا تو ضرورت کے تحت ایک عورت نے مجھے ایک یا دو مرتبہ دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے کی صحیح تعداد یقینی طور پر معلوم نہیں، لیکن یہ پانچ سے کم اور باقاعدہ نہیں تھا۔
فقہِ شافعی اور فقہِ حنبلی کے مطابق رضاعی رشتہ (حرمتِ رضاعت) صرف اس وقت ثابت ہوتا ہے جب پانچ مکمل مرتبہ دودھ پلایا جائے۔
اس بنیاد پر میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے اس مسئلے میں مکمل طور پر فقہِ شافعی یا حنبلی کے قول پر عمل کرنا جائز ہے اور جس عورت کا دودھ پیا ہے اس کی بیٹی سے نکاح کو درست سمجھنا درست ہوگا، حالانکہ میں اصولاً فقہِ حنفی کی پیروی کرتا ہوں؟ میں یہ سوال خلوصِ نیت کے ساتھ شریعت کے مطابق درست عمل کرنے کے لیے کر رہا ہوں۔
جواب: واضح رہے کہ عام حالات میں مذہب غیر (یعنی اپنے امام کے مذہب کے علاوہ دیگر تین فقہاء کے مذاہب) پر عمل کرنا جائز نہیں ہے، خصوصاً جبکہ اس سے مقصود اتباعِ نفس اور اپنے لیے سہولت پیدا کرنا ہو تو ایسی صورت میں اس کی ممانعت مزید بڑھ جاتی ہے۔
سوال میں ذکر کردہ صورت میں مذکورہ عذر محض نفسانی خواہش پر مبنی ہے، کوئی شرعی ضرورت نہیں ہے، اس لیے سائل کے لیے مرضعہ (دودھ پلانے والی خاتون) کی بیٹی سے شادی کرنا شرعاً ممنوع اور ناجائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
بدائع الصنائع: (2/4، ط: دار الكتب العلمية)
أما تفسير الحرمة في جانب المرضعة فهو أن المرضعة تحرم على المرضع؛ لأنها صارت أما له بالرضاع فتحرم عليه لقوله جل و علا ﴿وأمهاتكم اللاتي أرضعنكم﴾ [النساء: ٢٣] معطوفا على قوله تعالى ﴿حرمت عليكم أمهاتكم وبناتكم﴾ [النساء: ٢٣] فسمى سبحانہ و تعالی المرضعة أم المرضع وحرمها عليه، وكذا بناتها يحرمن عليه سواء كن من صاحب اللبن أو من غير صاحب اللبن من تقدم منهن ومن تأخر؛ لأنهن أخواته من الرضاعة وقد قال الله جل و علا ﴿وأخواتكم من الرضاعة﴾ [النساء: ٢٣] أثبت الله تعالى الأخوة بين بنات المرضعة وبين المرضع والحرمة بينهما مطلقا من غير فصل بين أخت وأخت.
اصول الافتاء وآدابہ: (ص: 244، ط: معارف القرآن کراچی)
الحالة الأولى: الإفتاء بمذهب آخر لضرورة أو حاجة عامة. وذلك أن يكونَ في المذهب في مسألةٍ مخصوصة حرج شديد لا يُطاق، أو حاجة واقعيةٌ لا محيص عنها، فيجوز أن يُعمل بمذهب آخر دفعاً للحرج وإنجازاً للحاجة.
وهذا كما أفتى علماء الحنفية بمذهب الشافعية في جواز الاستئجار على تعليم القرآن، وبمذهب المالكية في مسألة زوجة المفقود والعنين والمتعنت.
وكذلك يدخل في هذا النوع ما عمت فيه البلوى ... ولكن يجب لجواز الإفتاء بمذهب آخر بسبب الحاجة أو عموم البلوى أن تتحقق الشروط الآتية.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی