resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: شوہر کے نامحرم عورتوں کے ساتھ تعلّقات کی صورت میں بیوی کے لیے اس مشکل سے نکلنے کا حل

(34636-No)

سوال: میں ایک ایسی صورتحال سے گزر رہی ہوں کہ میری شادی کو 3 سال ہو چکے ہیں۔ میں نے اپنے شوہر کی بے وفائی کئی بار اس کے فون میں دیکھی ہے، جہاں وہ دوسری عورتوں کے ساتھ نازیبا اور قربت پر مبنی چیٹس اور ملاقاتوں کی تصاویر رکھتا تھا۔ میں نے اپنی ساس اور اپنے والدین کے احترام کی خاطر خاموشی اختیار کی۔ میری فطرت ایسی ہے کہ میں جھگڑا یا ہنگامہ نہیں کر سکتی۔
تین دن پہلے میں نے یہ سب دوبارہ دیکھا، اس بار میں نے اپنی ساس کو سب کچھ بتا دیا، میرے شوہر نے نہ معافی مانگی ہے اور نہ ہی کوئی بات کی ہے، وہ اب بھی خاموش ہے۔ میری ساس نے یہ کہہ دیا کہ اس کے والد بھی ایسے ہی تھے، اور یہ کہ وہ اس سے سنجیدگی سے بات کر رہی ہیں۔ جب میں نے کہا کہ میں اپنے والدین کے گھر جانا چاہتی ہوں کیونکہ وہ تبدیل نہیں ہوگا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فیصلہ نہیں، وہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا اور خود ہی ٹھنڈا ہو جائے گا وغیرہ۔
لیکن اب میں یہ سب مزید برداشت نہیں کر سکتی، میری ایک بیٹی ہے اور میں اس وقت حاملہ بھی ہوں۔ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھے صحیح راستہ دکھائے۔ میں آپ سے بھی رہنمائی چاہتی ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کس طرح درست فیصلہ کرنا چاہیے؟
شوہر کے نامحرم عورتوں کے ساتھ تعلّقات کی صورت میں بیوی کے لیے اس مشکل سے نکلنے کا حل

جواب: میں ایک ایسی صورتحال سے گزر رہی ہوں کہ میری شادی کو 3 سال ہو چکے ہیں۔ میں نے اپنے شوہر کی بے وفائی کئی بار اس کے فون میں دیکھی ہے، جہاں وہ دوسری عورتوں کے ساتھ نازیبا اور قربت پر مبنی چیٹس اور ملاقاتوں کی تصاویر رکھتا تھا۔ میں نے اپنی ساس اور اپنے والدین کے احترام کی خاطر خاموشی اختیار کی۔ میری فطرت ایسی ہے کہ میں جھگڑا یا ہنگامہ نہیں کر سکتی۔
تین دن پہلے میں نے یہ سب دوبارہ دیکھا، اس بار میں نے اپنی ساس کو سب کچھ بتا دیا، میرے شوہر نے نہ معافی مانگی ہے اور نہ ہی کوئی بات کی ہے، وہ اب بھی خاموش ہے۔ میری ساس نے یہ کہہ دیا کہ اس کے والد بھی ایسے ہی تھے، اور یہ کہ وہ اس سے سنجیدگی سے بات کر رہی ہیں۔ جب میں نے کہا کہ میں اپنے والدین کے گھر جانا چاہتی ہوں کیونکہ وہ تبدیل نہیں ہوگا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فیصلہ نہیں، وہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا اور خود ہی ٹھنڈا ہو جائے گا وغیرہ۔
لیکن اب میں یہ سب مزید برداشت نہیں کر سکتی، میری ایک بیٹی ہے اور میں اس وقت حاملہ بھی ہوں۔ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھے صحیح راستہ دکھائے۔ میں آپ سے بھی رہنمائی چاہتی ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کس طرح درست فیصلہ کرنا چاہیے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

القرآن الكريم: (النساء، الآية: 35)
وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُوا۟ حَكَمࣰا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمࣰا مِّنۡ أَهۡلِهَاۤ إِن یُرِیدَاۤ إِصۡلَٰحࣰا یُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَیۡنَهُمَاۤۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِیمًا خَبِیرࣰا.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce