عنوان: مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت سے متعلق راویت کی تحقیق(3466-No)

سوال: مفتی صاحب ! مسجد نبوی میں چالیس نماز پڑھنے کی احادیث میں کیا فضیلت آئی ہے؟

جواب: مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی فضیلت حدیث شریف میں وارد ہے، ذیل میں مکمل روایت سند، متن، ترجمہ اور حکم کے ساتھ بیان کی جاتی ہے:
حدثنا الحكم بن موسى، قال أبو عبد الرحمن عبد الله وسمعته أنا من الحكم بن موسى، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الرجال، عن نبيط بن عمر،عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " من صلى في مسجدي أربعين صلاة، لا يفوته صلاة، كتبت له براءة من النار، ونجاة من العذاب، وبرئ من النفاق "
(مسندأحمد:(رقم الحديث: 12583، ط: مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: جس شخص نے میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھیں کہ اس کی ایک نماز بھی نہیں چھوٹی، اس کے لیے جہنم سے براء ت اور عذاب سے نجات لکھ دی گئی اور وہ نفاق سے بھی پاک ہوگیا۔
حکم:
اس روایت کی سند کا مدار ’’نبیط بن عمر‘‘ پر ہے ، علامہ ابن حبان ؒ نے ان کا تذکرہ ’’ثقات‘‘ میں کیا ہے اور ان ہی کے حوالے سے علامہ شمس الدين الحسيني نے ’’ الإكمال في ذكر من له رواية في مسند الإمام أحمد من الرجال سوى من ذكر في تهذيب الكمال ‘‘(432 ، ط: منشورات جامعة الدراسات الإسلامية ) میں اور علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے’ تعجيل المنفعة’‘(420، ط: دار الكتاب العربي) میں علامہ ابن حبان ہی حوالے سے بغیر کسی تبصرہ کے ذکر کیا ہے۔
دیگر ائمہ جرح و تعدیل میں سے کسی سے نہ اس کی توثیق منقول ہے اور نہ ہی تضعیف،اور اس راوی کا ذکر اس روایت کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتا ہے، اس لیے یہ راوی مجہول ہے۔
علامہ ابن حبان ؒ کو ائمہ جرح وتعدیل نے کسی راوی کو ثقہ قرار دینے میں متساہل شمار کیا ہے، اس وجہ سے ذکرکردہ روایت کو بعض علماء کرام جیسے دکتور شعیب الارنووط، علامہ البانی وغیرہ نے ’’ضعیف‘‘قرار دیا ہے، البتہ بعض علماءکرام نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
علامہ منذری نے کہا :اس کے روات صحیح کے روات ہیں۔ علامہ ہیثمی ؒ نے اس کے روات کو ثقہ کہا ہے اور علامہ قسطلانی ؒ بخاری کی شرح میں اس روایت کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا:امام احمد نے اس روایت کو صحیح روات کی سند سے روایت کیا ہے۔

خلاصہ کلام:
ذکرکردہ روایت صحیح ہے، کیونکہ علامہ منذریؒ نے اس کے روات کو صحیح قرار دیا ہے اور علامہ منذری ؒ کے بارے میں علامہ سیوطی فرماتے ہیں:اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ کوئی حدیث صحاح ستہ یا مسند احمد اور اسی طرح امام نووی کی تصانیف یا حافظ منذری صاحبِ ترغیب وترھیب کی تصانیف میں موجود ہے، تو اس کو اطمینان سے بیان کرسکتے ہو، یعنی وہ موضوع نہیں ہوسکتی ہے۔
اگر بالفرض ضعیف مان لیا جائے، تو بھی ضعف شدید نہیں ہے، اس لیے فضائل کے باب میں بیان کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الترغيب و الترهيب للمنذري: (رقم الحديث: 1832، ط: دار الكتب العلمية)
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صلى في مسجدي أربعين صلاة لا تفوته صلاة كتبت له براءة من النار وبراءة من العذاب وبرىء من النفاق
رواه أحمد ورواته رواة الصحيح والطبراني في الأوسط وهو عند الترمذي بغير هذا اللفظ.

مجمع الزوائد للهيثمي: (رقم الحدیث: 5878، ط: مکتبة القدسي)
عن أنس بن مالك عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " «من صلى في مسجدي أربعين صلاة لا تفوته صلاة كتب له براءة من النار وبراءة من العذاب وبرئ من النفاق» ".قلت: روى الترمذي بعضه.رواه أحمد، والطبراني في الأوسط، ورجاله ثقات.

إرشاد الساري للقسطلاني: (344/2، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وروى أحمد بإسناد رواته الصحيح، من حديث أنس رفعه: "من صلى في مسجدي أربعين صلاة لا تفوته صلاة، كتبت له براءة من النار، وبراءة من العذاب، وبراءة من النفاق".

الحاوي للفتاوي للسيوطي: (346/1، ط: دار الفكر)
وإذا علمتم أن الحديث في سائر الكتب الستة أو مسند الإمام أحمد فارووه مطمئنين، وكذلك ما كان مذكورا في تصانيف الشيخ محيي الدين النووي، أو المنذري صاحب الترغيب والترهيب، فارووه مطمئنين.

القول البديع للسخاوي: (ص: 472، ط: موسسة الريان)
قال شيخ الإسلام أبو زكريا النووي - رحمه الله - في الأذكار قال العلماء من المحدثين والفقهاء وغيرهم يجوز ويستحب العمل في الفضائل والترغيب والترهيب بالحديث الضعيف ما لم يكن موضوعاً .....وقد سمعت شيخنا مراداً يقول وكتبه لي بخطه أن شرائط العمل بالضعيف ثلاثة، الأول متفق عليه أن يكون الضعف غير شديد فيخرج من أنفرد من الكذابين والمتهمين بالكذب ومن فحش غلطه، الثاني أن يكون مندرجاً تحت أصل عام فيخرج ما يخترع بحيث لا يكون له أصل أصلاً، الثالث أن لا يعتقد عند العمل به ثبوته لئلا ينسب إلى النبي-صلى الله عليه وسلم- ما لم یقله.

تعلیق أحمد فتحی علی المقنع فی علوم الحدیث: (ص: 68، ط: دار الکتب العلمیة)
يقسم الحديث الضعيف إلى أنواع كثيرة جدا، وأكثر أهل العلم على تصنيفه بحسب الأنواع الرئيسة، حيث إنها ضوابط كافية لتمييز المقبول من المردود، تدرج تحتها كافة الصورة كما أنها تبين إلى أي مدى بلغ الضعف، هل هو هين يصلح للتقوية إن وجد عائذ، أو شديد لا يصلح للتقوية، أو مكذوت مختلف جرماً؟ وهو ثلاثة أنواع:
النوع الأول: الضعيف ضعفا يسيراً، وهو أنواع كثيرة منها: « ما نشأ عن سوء الحفظ، أو الاختلاط، أوالانقطاع، أو الإرسال، أو التدليس، أو الإعضال، أو الشذوذ، أو الوهم، أو العلة القادحة، أو المضطرب، أو المقلوب .. النوع الثاني: الضعيف ضعفاً شديداً، وهو أنواع منها: « المنكر، والمتروك، والمطروح .. النوع الثالث: الموضوع.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1906 Jan 29, 2020
Masjid e nabvi, sallallahu alaihi wasallam, saw, chaalees, chalees, namazain, namazein, parhnay, parhne, padhne, ki, ke, fazeelat, fazilat, The virtue of offering forty prayers in prophet's mosque, masjid e nabvi, forty prayers, virtues, prayers in prophets mosque, prophets masjid

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.