عنوان:
لڑکا لڑکی کا آپس میں ٹیلیفون پر نکاح کرنا کیسا ہے؟
(3557-No)
سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! مجھے ایک لڑکی پسند تھی میں نے اس سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں فلاں بن فلاں اتنے مہر کے بدلے آپ کو قبول ہوں؟ تو اس نے بھی فون پر یہ الفاظ کہے کہ میں فلاں بنت فلاں نے آپ کو قبول کیا، اور ہم نے یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے، کیا اس طرح ہمارا نکاح ہوگیا؟ جبکہ اب اس لڑکی کے والدین اس کی کسی اور جگہ شادی کرنا چاہتے ہیں، تو کیا وہ دوسری جگہ اس کی شادی کر سکتے ہیں؟
جواب: واضح رہے کہ ٹیلی فون پر اس قسم کی فضول گفتگو سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، نکاح کا مہذب طریقہ یہ ہے کہ لڑکی کے والدین سے مناسب طریقے سے رشتہ مانگا جائے، اگر وہ راضی ہوں، تو مجلس نکاح میں گواہوں کے سامنے نکاح کا ایجاب اور قبول کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
البحر الرائق: (83/3، ط: زکریا)
وشرائط الإیجاب والقبول فمنہا اتحاد المجلس، إذا کان الشخصان حاضرین، فلو اختلف المجلس لم ینعقد۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی
Larka, Larki, ka, Aapas, mein, telephone, par, nikah, Telephone peh Nikah, Ladka Ladki, Larka-Larki, Zubani Nikah,
What is it like for a boy and a girl to get married on the telephone?, Telephonic nikah, Telephonic marriage