resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: دو بیویوں کو الگ الگ ملکوں میں رکھنے کا حکم

(36646-No)

سوال: میں ایک دینی معاملے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔ میری شادی 2017 میں ہوئی تھی، اور میری پہلی بیوی سے تین بچے ہیں۔ ہماری ازدواجی زندگی میں اکثر اختلافات رہتے تھے؛ میں اپنی بیوی کے رویّے سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھا اور ہمارے درمیان پوری طرح ہم آہنگی بھی نہیں تھی، تاہم زندگی کسی نہ کسی طرح چل رہی تھی۔ میں نے دل کے سکون کے لیے اور اپنی ازدواجی زندگی میں توازن اور بہتری لانے کی نیت سے دوسری شادی کرنے کا ارادہ کیا۔
2022 میں مالی مجبوری کی وجہ سے میں کام کے سلسلے میں دبئی گیا، اور بعد ازاں 2024 میں برطانیہ چلا گیا، تاکہ اپنی بیوی اور بچوں کی بہتر کفالت کر سکوں۔ مجھے یہ اختیار تھا کہ میں کس بیوی کو اپنے ساتھ برطانیہ لے جاؤں، چنانچہ میں اپنی نئی بیوی کو لے آیا، کیونکہ پہلی بیوی کو ساتھ لانا ممکن نہیں تھا، اور میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ ایک سادہ اور گھریلو مزاج کی عورت ہیں، جو معاشرتی معاملات کا سامنا کرنے یا ہر قدم پر میرا ساتھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
میں اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے تمام حقوق پورے کر رہا ہوں، اور اگرچہ میں زیادہ تر وقت برطانیہ میں گزارتا ہوں، لیکن ہر 6–7 ماہ بعد تقریباً ایک مہینے کے لیے پاکستان آتا ہوں تاکہ ان کے ساتھ وقت گزار سکوں۔ میری نیت ہمیشہ انصاف کرنے کی رہی ہے اور میں کسی کے حقوق میں کوتاہی نہیں کرتا۔
میرا سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے کیا میرا دوسری شادی کرنا اور ایک بیوی کو پاکستان میں رکھنا جائز ہے؟ کیا برطانیہ میں زیادہ وقت گزارنا اور پہلی بیوی کے ساتھ محدود وقت گزارنا درست ہے؟ اور میں دونوں بیویوں کے ساتھ انصاف اور عدل کس حد تک قائم رکھ رہا ہوں؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: شریعت میں مرد کے لیے دوسری شادی کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ دونوں بیویوں میں بیتوتت (یعنی بیوی کے ساتھ رات گزارنے)، نان و نفقہ اور رہائش میں برابری اور یکسانیت کا معاملہ کرے۔ قرآن شریف میں ہے: فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (النساء، الآية: ٣)
ترجمہ: "اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے، ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بےانصافی میں مبتلا نہیں ہوگے"۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اگر دونوں بیویوں کو برطانیہ لے جانا ممکن ہو تو دونوں کو وہاں لے جائیں، ورنہ دونوں کو یہاں رکھیں، تاکہ رہائش، رات گزارنے اور نان و نفقہ میں برابری ہوسکے۔
اگر دونوں کو برطانیہ لے جانا یا دونوں کو یہاں آباد کرنا بھی مشکل ہو تو اس کا ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ نان و نفقہ اور رہائش تو ایک جیسی ہی دیں، البتہ رات بسر کرنے کے بارے میں اپنی پہلی بیوی کو اس بات پر رضامند کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کچھ مدّت کے لیے برطانیہ دوسری بیوی کے ساتھ رہنے کی اجازت دیدے، اور اگر وہ اجازت نہ دے بلکہ عدل کا مطالبہ کرے تو پھر دونوں بیویوں میں رات بسر کرنے میں بھی برابری کرنا ضروری ہوگا، ایسی صورتحال میں یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ کچھ عرصہ ایک بیوی کو لے جائیں، اور اتنا ہی عرصہ دوسری بیوی کو، لیکن ایک کو برطانیہ رکھنا اور دوسری کو پاکستان میں رکھنا یہ ناانصافی ہے، جو کہ جائز نہیں ہے، ایک حدیث مبارکہ میں ہے: "جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ (برابری کرنے کے بجائے) ایک کی طرف جھکاؤ اور ميلان رکھے تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو گرا ہوا (مفلوج) ہوگا ۔" (مسند احمد، حدیث نمبر: 10090)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (النساء، الآية: ٣)
﴿ …فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا ●﴾

مسند أحمد: (16/ 107، رقم الحديث: 10090، ط: الرسالة)
حدثنا وكيع وبهز، قالا: حدثنا همام، عن قتادة، عن النضر بن أنس - قال بهز في حديثه: قال: حدثنا قتادة - عن بشير بن نهيك، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كانت له ‌امرأتان يميل مع إحداهما على الأخرى، جاء يوم القيامة وأحد شقيه ‌ساقط.

الهندية: (1/ 340)
«ومما يجب على الأزواج للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان. والعبد كالحر في هذا كذا في الخلاصة. فيسوي بين الجديدة والقديمة والبكر والثيب والصحيحة والمريضة والرتقاء والمجنونة التي لا يخاف منها والحائض والنفساء والحامل والحائل والصغيرة التي يمكن وطؤها والمحرمة والمولى منها والمظاهر منها كذا في التبيين. وكذا بين المسلمة والكتابية كذا في السراج الوهاج. والزوج الصحيح والمريض والمجبوب والخصي والعنين والبالغ والمراهق والمسلم والذمي في القسم سواء كذا في فتاوى قاضي خان.»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah