resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: لڑکا لڑکی کا خفیہ طور پر نکاح کرنا اور قاضی کا گواہ بننا

(36647-No)

سوال: میں شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہوں، ایک سال پہلے میرا خفیہ نکاح ہوا تھا، نکاح کے وقت گواہ جسمانی طور پر موجود نہیں تھے۔ ایک ہی شخص نے قاضی اور گواہ دونوں کا کردار ادا کیا، نکاح نامے میں ایک یا دو مزید گواہوں کے نام لکھ دیے گئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ انہیں گواہ بنایا گیا ہے، لیکن وہ ایجاب و قبول کی مجلس میں موجود نہیں تھے۔
نکاح کے بعد ہم نے میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے زندگی نہیں گزاری، اس وقت میں اس شخص کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، وہ طلاق دینے سے انکار کر رہا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے کہ میں خود طلاق دوں۔ اس صورتِ حال میں کیا ہمارا نکاح شرعاً درست تھا؟ اور میرے لیے درست شرعی لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے؟ میں شرعی حکم اور رہنمائی کی درخواست کرتی ہوں۔

جواب: واضح رہے کہ مجلسِ نکاح میں دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا ہونا اور ان گواہوں کا ایجاب و قبول سننا ضروری ہے، پوچھی گئی صورت میں چونکہ مجلسِ نکاح میں صرف تین لوگ موجود تھے: دولہا، دلہن اور قاضی، اس لیے شرعی طور یہ نکاح درست نہیں ہوا اور جب مذکورہ نکاح ہی درست نہیں ہوا تو طلاق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نیز نکاح نامہ میں گواہوں کے نام لکھنا اور اُن کو اس کا پہلے سے علم ہونا کافی نہیں، بلکہ اُن گواہوں کا مجلسِ نکاح میں ہونا اور ایجاب وقبول کا سننا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل

سنن الترمذي: (باب ما جاء في إعلان النكاح، رقم الحدیث: 1089، 2/ 384، ط: دار الغرب الاسلامي)
عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌أعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد»، واضربوا عليه بالدفوف.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 267، ط: دار الفکر)
(وأما شروطه) ... ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع ... ويشترط العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد هكذا في البدائع

الهداية: (185/1، ط: دار احیاء التراث العربي)
قال: "ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين .... قال رضي الله عنه اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله عليه الصلاة والسلام "لا نكاح إلا بشهود"

بدائع الصنائع: (2/ 255، ط: دار الکتب العلمیة)
ومنها سماع الشاهدين كلام المتعاقدين جميعا حتى لو سمعا كلام أحدهما دون الآخر أو سمع أحدهما كلام أحدهما والآخر كلام الآخر لا يجوز النكاح؛ لأن الشهادة أعني حضور الشهود شرط ركن العقد، وركن العقد هو الإيجاب والقبول فيما لم يسمعا كلامهما لا تتحقق الشهادة عن الركن فلا يوجد شرط الركن - والله أعلم -...ومنها العدد فلا ينعقد النكاح بشاهد واحد لقوله: صلى الله عليه وسلم «لا نكاح إلا بشهود» وقوله: «لا نكاح إلا بشاهدين»

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah